Skip to main content

يٰۤـاَهْلَ الْـكِتٰبِ قَدْ جَاۤءَكُمْ رَسُوْلُـنَا يُبَيِّنُ لَـكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۤءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۗ فَقَدْ جَاۤءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌۗ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ

يَٰٓأَهْلَ
اے اہل
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
قَدْ
تحقیق
جَآءَكُمْ
آگیا تمہارے پاس
رَسُولُنَا
ہمارا رسول
يُبَيِّنُ
بیان کرتا ہے
لَكُمْ
تمہارے لیے
عَلَىٰ
فَتْرَةٍ
ایک وقفے کے بعد
مِّنَ
کے
ٱلرُّسُلِ
رسولوں کے
أَن
کہیں
تَقُولُوا۟
تم یہ کہو
مَا
نہیں
جَآءَنَا
آیا ہمارے پاس
مِنۢ
بَشِيرٍ
خوشخبری دینے والا
وَلَا
اور نہ
نَذِيرٍۖ
کوئی ڈرانے والا
فَقَدْ
تو تحقیق
جَآءَكُم
آگیا تمہارے پاس
بَشِيرٌ
خوشخبری دینے والا
وَنَذِيرٌۗ
اور ڈرانے والا
وَٱللَّهُ
اور اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کے
قَدِيرٌ
قادر ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے اہل کتاب! ہمارا یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا سو دیکھو! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے اہل کتاب! ہمارا یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا سو دیکھو! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا کہ کبھی کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں، اور اللہ کو سب قدرت ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اے اہل کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارا پیغمبر آ یا جو تمہیں صاف صاف بتلاتا ہے ایسے وقت میں رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا تاکہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی خوشبخبری دینے والا اور ڈرانے والانہیں آیاسوتمہارےپاس خوشخبری دینے والااورڈرانےوالاآ گیا ہے اور الله ہر چیز پر قادر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آپہنچا ہے۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں، پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آپہنچا (١) اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے۔

١٩۔١ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ کے درمیان جو تقریباً ٥٧٠ یا ٦٠٠ سال کا فاصلہ ہے یہ زمانہ فترت کہلاتا ہے۔ اہل کتاب کو کہا جا رہا ہے کہ اس فترت کے بعد ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اب تم یہ بھی نہ کہہ سکو گے کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر و نذیر پیغمبر ہی نہیں آیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے اہل کتاب! بالیقین ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آ پہنچا ہے۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ ره جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے واﻻ آیا ہی نہیں، پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے واﻻ اور آگاه کرنے واﻻ آ پہنچا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے اہلِ کتاب، ہمارا رسول جو کھول کر (ہمارے احکام) بیان کرتا ہے۔ ایسے وقت تمہارے پاس آیا کہ جب کچھ عرصہ سے رسولوں کی آمد کا سلسلہ بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، تو لو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اے اہلِ کتاب تمہارے پاس رسولوں کے ایک وقفہ کے بعد ہمارا یہ رسول آیا ہے کہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا تھا تو لو یہ بشیر و نذیر آگیا ہے اور خدا ہر شے پر قادر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے اہلِ کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارے (یہ آخر الزمان) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیغمبروں کی آمد (کے سلسلے) کے منقطع ہونے (کے موقع) پر تشریف لائے ہیں، جو تمہارے لئے (ہمارے احکام) خوب واضح کرتے ہیں، (اس لئے) کہ تم (عذر کرتے ہوئے یہ) کہہ دوگے کہ ہمارے پاس نہ (تو) کوئی خوشخبری سنانے والا آیا ہے اور نہ ڈر سنانے والا۔ (اب تمہارا یہ عذر بھی ختم ہو چکا ہے کیونکہ) بلاشبہ تمہارے پاس (آخری) خوشخبری سنانے اور ڈر سنانے والا (بھی) آگیا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں !
اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو حضرت عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، (فترۃ) کی اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے، بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی، بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی، کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔ لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے یعنی چھ سو سال کا، بعض کہتے ہیں چھ سو بیس سال کا فاصلہ تھا۔ ان دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ پہلا قول شمسی حساب سے ہو اور دوسرا قمری حساب سے ہو اور اس گنتی میں ہر تین سو سال میں تقریباً آٹھ کا فرق پڑجاتا ہے۔ اسی لئے اہل کہف کے قصے میں ہے۔ ولبثوا فی کھفھم ثلاث مأتہ سنین وازدادو تسعا۔ وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو برس اور زیادہ کئے۔ پس شمسی حساب سے اہل کتاب کو جو مدت ان کی غار کی معلوم تھی، وہ تین سو سال کی تھی، نو بڑھا کر قمری حساب پورا ہوگیا، آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ سے لے کر جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جو علی الا طلاق خاتم الانبیاء تھے، فترۃ کا زمانہ تھا یعنی درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے " حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ سے یہ بہ نسبت اور لوگوں کے میں زیادہ اولیٰ ہوں، اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ " اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو خیال کرتے ہیں کہ ان دونوں جلیل القدر پیغمبروں کے درمیان بھی ایک نبی گزرے ہیں، جن کا نام خالد بن سنان تھا۔ جیسے کہ قضاعی وغیرہ نے حکایت کی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حبیب اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں اس وقت تشریف لاتے ہیں جبکہ رسولوں کی تعلیم مٹ چکی ہے، ان کی راہیں بےنشان ہوچکی ہیں، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، جگہ جگہ مخلوق پرستی ہو رہی ہے، سورج چاند بت آگ کی پوجا جا رہی ہے، اللہ کا دین بدل چکا ہے، کفر کی تاریکی نور دین پر چھا چکی ہے، دنیا کا چپہ چپہ سرکشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے، عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہوچکی ہے، جہالت و قساوت کا دور دورہ ہے، بجز چند نفوس کے اللہ کا نام لیوا زمین پر نہیں رہا، پس معلوم ہوا کہ آپ کی جلالت و عزت اللہ کے پاس بہت بڑی تھی اور آپ نے جو رسالت کی ذمہ داری ادا کی، وہ کوئی معمولی نہ تھی، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا " مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج بھی بتائی ہیں، فرمایا ہے میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کیلئے حلال ہے، میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے شرک کریں۔ سنو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور تمام عرب و عجم کو ناپسند فرمایا بجز ان چند بقایا بنی اسرائیل کے (جو توحید پر قائم ہیں) پھر (مجھ سے) فرمایا، میں نے تجھے اسی لئے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیری وجہ سے اوروں کی بھی آزمائش کرلوں۔ میں تجھ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکتا جسے تو سوتے جاگتے پڑھتا ہے، پھر مجھے میرے رب نے حکم دیا کہ قریشیوں میں پیغام الٰہی پہنچاؤں میں نے کہا یا رب یہ تو میرا سر کچل کر روٹی جیسا بنادیں گے، پروردگار نے فرمایا تو انہیں نکال، جیسے انہوں نے تجھے نکالا تو ان سے جہاد کر، تیری امداد کی جائے گی۔ تو ان پر خرچ کر، تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ان کے مقابلے پر لشکر بھیج، ہم اس سے پانچ گنا لشکر اور بھیجیں گے اپنے فرمانبرداروں کو لے کر اپنے نافرمانوں سے جنگ کر، جنتی لوگ تین قسم کے ہیں، بادشاہ عادل، توفیق خیر والا، صدقہ خیرات کرنے والا اور باوجود مفلس ہونے کے حرام سے بچنے والا، حالانکہ اہل و عیال بھی ہے، اور جہنمی لوگ پانچ قسم کے ہیں وہ سفلے لوگ جو بےدین، خوشامد خورے اور ماتحت ہیں، جن کی آل اولاد دھن دولت ہے اور وہ حائن لوگ جن کے دانت چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی ہوتے ہیں اور حقیر چیزوں میں بھی خیانت سے نہیں چوکتے اور وہ لوگ جو صبح شام لوگوں کو ان کے اہل و مال میں دھوکہ دیتے پھرتے ہیں اور بخیل ہیں فرمایا کذاب اور شنطیر یعنی بدگو۔ " یہ حدیث مسلم اور نسائی میں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے وقت سچا دین دنیا میں نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے لوگوں کو اندھیروں سے اور گمراہیوں سے نکال کر اجالے میں اور راہ راست پر لاکھڑا کیا اور انہیں روشن و ظاہر شریعت عطا فرمائی۔ اس لئے کہ لوگوں کا عذر نہ رہے، انہیں یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا، ہمیں نہ تو کسی نے کوئی خوشخبری سنائی نہ دھمکایا ڈرایا۔ پس کامل قدرتوں والے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیج دیا، وہ اپنے فرمانبرداروں کو ثواب دینے پر اور نافرمانوں کو عذاب کرنے پر قادر ہے۔