Skip to main content

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّاَصْحٰبُ الرَّسِّ وَثَمُوْدُۙ

كَذَّبَتْ
جھٹلایا
قَبْلَهُمْ
ان سے قبل
قَوْمُ
قوم
نُوحٍ
نوح نے
وَأَصْحَٰبُ
اور اصحاب
ٱلرَّسِّ
الرس نے
وَثَمُودُ
اور ثمود نے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور اصحاب الرس، اور ثمود

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور اصحاب الرس، اور ثمود

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود

احمد علی Ahmed Ali

ان سے پہلے قوم نوح اور کنوئیں والوں نے اور قوم ثمود نے جھٹلایا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں (١) نے اور ثمود نے۔

١٢۔١ اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورہ بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، (وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا) 25۔ الفرقان;38)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ﺛمود نے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم، اصحابِ رس اور ثمود نے جھٹلایا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان سے پہلے قوم نوح اصحاب رس اور ثمود نے بھی تکذیب کی تھی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اِن (کفّارِ مکہ) سے پہلے قومِ نوح نے، اور (سرزمینِ یمامہ کے اندھے) کنویں والوں نے، اور (مدینہ سے شام کی طرف تبوک کے قریب بستیِ حجر میں آباد صالح علیہ السلام کی قوم) ثمود نے جھٹلایا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ان کو شامت اعمال ہی شد تھی
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں جیسے کہ نوح کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا اور اصحاب رس جن کا پورا قصہ سورة فرقان کی تفسیر میں گذر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنادیا یہ سب کیا تھا ؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں، سورة دخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد للہ۔ ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے آیت ( كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِۨ الْمُرْسَلِيْنَ\010\05ښ) 26 ۔ الشعراء ;105) قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے پاس صرف نوح (علیہ السلام) ہی آئے تھے پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آجاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے ایک کو بھی نہ مانتے سب کی تکذیب کرتے ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہوگیا اور صادق آگیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا ؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے جیسے فرمان ہے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ۭ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 27؀ ) 30 ۔ الروم ;27) یعنی بتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے سورة یٰسین میں فرمان الہٰی جل جلالہ گذر چکا کہ آیت ( وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78؀) 36 ۔ يس ;78) ، یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔