ق آية ۳۰
يَوْمَ نَـقُوْلُ لِجَهَـنَّمَ هَلِ امْتَلَـئْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ
طاہر القادری:
اس دن ہم دوزخ سے فرمائیں گے: کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی: کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے،
English Sahih:
On the Day We will say to Hell, "Have you been filled?" and it will say, "Are there some more,"
1 Abul A'ala Maududi
وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟
2 Ahmed Raza Khan
جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے
3 Ahmed Ali
جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر چکی اوروہ کہے گی کیا کچھ اوربھی ہے
4 Ahsanul Bayan
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے؟ (١)۔
٣٠۔١ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے ۔ ( لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدہ;13)۔ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا اس وعدے کا جب ایفا ہو جائے گا اور اللہ تعالٰی کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن اب بھی گنجائش ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟
6 Muhammad Junagarhi
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟
7 Muhammad Hussain Najafi
وہ دن یاد کرو جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جس دن ہم جہّنم سے کہیں گے کہ تو بھر گیا تو وہ کہے گا کہ کیا کچھ اور مل سکتا ہے
9 Tafsir Jalalayn
اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ؟ وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟
ترجمہ : جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی ؟ (یوم) کا ناصب ظلام ہے، (نقول) نون ویاء کے ساتھ ہے استفہام، جہنم سے اس کے بھرنے کے وعدے کی تحقیق کے لئے ہے اور جہنم جواب دے گی، کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے ؟ یعنی میرے اندر جو چھ بھرا گیا اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں یعنی میں بھر گئی اور جنت پرہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی، اتنی کہ ذرا بھی ان سے دور نہ ہوگی چناچہ وہ اس کو دیکھیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے وہی ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا، یاء اور تاء کے ساتھ اور للمتقین سے اس کا قول لکل اواب بدل ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طاعت کی طرف رجوع کرنے والا اور حدود کی حفاظت کرنے والا ہو جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو یعنی اس سے ڈرتا ہو حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے اور اس کی طاعت کی طرف متوجہ ہونے والا دل لایا ہو اور پرہیز گاروں سے یہ بھی کہا جائے گا اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو یعنی ہر اندیشہ سے بےخوف ہو کر، یا سلامتی کے ساتھ، یا سلام کرو اور داخل ہوجائو یہ دن جس میں دخول حاصل ہوا ہے، دائمی طور پر جنت میں داخل ہونے کا دن ہے ان کے لئے وہاں جو چاہیں گے دائمی طور پر ملے گا (بلکہ) اور ہمارے پاس ان کے عمل سے اور طلب سے زیادہ ہے، اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں یعنی قریش سے پہلے کافروں میں سے بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں وہ ان سے طاقت میں بہت زیادہ تھے تمام شہروں کو چھان مارا تھا کیا ان کو اور دوسروں کو موت سے فرار کی کوئی جگہ ملی ؟ نہیں ملی، بلاشبہ اس مذکور میں ہر صاحب دل (صاحب عقل) کے لئے نصیحت ہے اور اس کے لئے جو حضوری قلب کے ساتھ نصیحت سننے کے لئے کان لگائے اور یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے چھ دنوں میں پیدا کیا، ان میں کا پہلا دن اتوار ہے اور ان کا آخری جمعہ ہے، اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں، یہ آیت یہود کے اس قول کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ ” ہفتہ کے روز اللہ تعالیٰ نے آرام فرمایا “ اور تکان کا اس سے منتفی ہونا باری تعالیٰ کے مخلوق کی صفات سے منزہ ہونے کی وجہ سے ہے اور اس کے اور اس کے غیر کے درمیان مجانست نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی شئی کے کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ اس کے لئے کن کہہ دیتا ہے تو وہ شئی موجود ہوجاتی ہے پس یہ یعنی یہود وغیرہ تشبیہ و تکذیب کی جو بات کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے حمد بیان کرتے ہوئے نماز پڑھئے طلوع شمس سے پہلے یعنی صبح کی نماز اور غروب سے پہلے یعنی ظہر اور عصر کی نماز اور رات کے کسی وقت میں تسبیح بیان کریں یعنی مغرب و عشاء کی نماز پڑھئے، اور نماز کے بعد بھی ادبار ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ دبر کی جمع ہے اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ادبر کا مصدر ہے، مطلب یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل مسنونہ پڑھئے اور کہا گیا ہے کہ ان اوقات میں حمد کے ساتھ تسبیح پڑھنا مراد ہے اور اے مخاطب میری بات سن جس دن ایک پکارنے والا اور وہ اسرافیل (علیہ الصلوۃ والسلام) ہیں آسمان سے قریبی مکان سے پکارے گا اور وہ بیت المقدس کا صخرہ (بڑا پتھر) ہے (صخرہ) زمین سے آسمان کی طرف قریب ترین مقام ہے، وہ پکارنے والا کہے گا اے بوسیدہ ہڈیو اور اکھڑے ہوئے جوڑوں اور پارہ پارہ گوشتو اور بکھرے ہوئے بالو، اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ مقدمہ کے فیصلے کے لئے جمع ہوجائو جس دن بعث کے لئے پکار کو پوری مخلوق سن لے گی اور یہ اسرافیل کا نفحہ ثانیہ ہوگا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ نفحہ اسرافیل (علیہ السلام) کی پکار سے پہلے یا بعد میں ہو وہ نداء و سماع کا دن قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا اور یوم کا ناصب ینادی مقدر ہے یعنی وہ اپنی تکذیب کے انجام کو جان لیں گے، بلاشبہ ہم جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے جس دن زمین ان سے پھٹ جائے گی حال یہ کہ وہ جلدی کرنے والے ہوں گے (تشقق) شین کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ تاث ثانیہ کو اصل میں ادغام کر کے تو دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) سراعاً ، سریع کی جمع ہے سراعاً مقدر سے حال ہے، ای فیخر جون مسرعین یہ جمع کرلینا ہم پر (بہت) ہی آسان ہے اس میں موصوف اور صفت کے درمیان صفت کے متعلق کا فصل ہے، اختصاص کے لئے اور یہ (فصل) مضر نہیں ہے اور (ذلک) سے معنی حشر کی جانب اشارہ ہے جو کہ ذلک کا مخبر بہ ہے اور وہ (معنی) فناء کے بعد زندہ کرنا اور پیشی اور حساب کے لئے جمع کرنا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کفار مکہ کہتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں اور یہ حکم جہاد کی اجازت سے پہلے کا ہے، سو آپ ان کو قرآن کے ذریعہ سمجھاتے رہئے جو میری وعید سے ڈریں اور وہ مومن ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یوم ناصبہ ظلام، یوم کے منصوب ہونے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں اول یہ کہ اذکر فعل محذوف ناصب ہو، دوسرے یہ کہ سابقہ آیت میں ظلام ناصب ہو مفسر علام نے دوسری صورت کو اختیار کیا ہے۔
قولہ : ھل امتلات استفہام تحقیقی یعنی تقریری ہے اللہ نے جہنم سے جو بھرنے کا وعدہ فرمایا اس کے محقق اور پورا ہونے کو ثابت کرنے کے لئے یعنی میں نے تجھ سے جو بھرنے کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا ؟ جہنم استفہام سوالی کے طور پر جواب دے گی، کیا کچھ اور ہے ؟ یعنی اب مزید کی میرے اندر گنجائش نہیں ہے، جواب اگرچہ بصورت استفہام ہے مگر سوال معنی میں خبر کے ہے، جس کی طرف مفسر علام نے قدامتلات سے اشارہ کیا ہے۔
سوال : جہنم کے سوال کی صورت میں جواب دینے میں کیا فائدہ ہے ؟
جواب : تاکہ سوال و جواب میں مطابقت ہوجائے۔
قولہ : مکاناً
سوال : مکاناً کو محذوف ماننے سے کیا فائدہ ہے ؟
جواب : مکاناً محذوف مان کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ غیر بعید جنۃ کی صفت نہیں ہے بلکہ مکاناً محذوف کی صفت ہے اس لئے کہ اگر جنۃ کی صفت ہوتی تو غیر بعیدۃ ہوتی۔
قولہ : غیر بعید ازلفت الجنۃ کی تاکید ہے اس لئے کہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، جیسا کہ عرب بولتے ہیں عزیز غیر ذلیل (یا) قریب غیر بعید
قولہ : لکل اواب متقین سے اعادہ جار کے ساتھ بدل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہذا موصوف اور ماتوعدون اس کی صفت موصوف صفت سے مل کر مبتداء اور لکل اواب اس کی خبر ہے۔
قولہ : خافہ ولم یرہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بالغیب حال ہے یا تو مفعول یعنی رحمٰن سے حال ہے یعنی وہ رحمٰن سے ڈرا، حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن نظروں سے غائب ہے، یا پھر خشی کے فاعل سے حال ہے، یعنی وہ اللہ سے ڈرا حال یہ ہے کہ اس نے اللہ کو دیکھا نہیں ہے۔
قولہ : لھ، لھم کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ لھم، محیص مبتداء کی خبر محذوف ہے اور من زائدہ ہے اور استفہام انکاری ہے، مطلب یہ کہ سابقہ امتوں نے دنیا چھان ماری مگر ان کو کہیں موت سے پناہ نہیں ملی، اسی طرح تم کو بھی اے اہل مکہ موت سے کہیں پناہ نے ملے گی۔
قولہ : من لغوب، من فاعال پر زائدہ ہے لقوب (ن) سے مصدر ہے بمعنی تعب تکان
قولہ : لعم المجانسۃ بعض نسخوں میں عدم المماشتۃ ہے یعنی خالق و مخلوق کے درمیان میں کسی قسم کا جنسی ربط وتعلق نہ ہونے کی وجہ ہے۔
قولہ : مقولی، مقولی مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ مقولی استمع کا مفعول ہے۔
قولہ : یعلمون عاقبۃ تکذیبھم یہ یوم یناد المناد کا عامل ناصب ہے، مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ کے لئے بہتر تھا کہ عامل کو معمول کے ساتھ ہی ذکر کرتے۔
قولہ : یوم تشقق یہ اپنے ماقبل یوم الخروج سے بدل ہے اور انا نحن الخ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : بادغام التاء الثانیۃ فی الاصل فیھا، تشقق اصل میں تتشقق تھا، اصل میں تاء ثانیہ کو شین میں ادغام کردیا۔
قولہ : سراعاً ، فیخرجون کی ضمیر سے حال ہے اور عنھم کی ضمیر سے بھی حال ہوسکتا ہے۔
قولہ : فیہ فصل بین الموصوف والصفۃ بمتعلقھا، علینا موصوف اور صفت کے درمیان فاصل ہے، تقدیر عبارت یہ تھی ذلک حشر یسیر علینا اختصاص کے لئے علینا جار مجرور کو مقدم کردیا یعنی یہ حشر ہمارے ہی لئے آسان ہے اور فصل چونکہ اجنبی کا نہیں اس لئے مضر بھی نہیں ہے۔
قولہ : ذلک اشارۃ الی معنی الحشر المخبر بہ عنہ مذکورہ عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : ذلک حشر علینا یسیر میں مخبر عنہ اور مخبربہ دونوں واحد ہیں اس لئے کہ ذلک کا مشار الیہ حشر ہے جو کہ مخبر عنہ ہے اور یسیر مخبر بہ ہے حشر موصوف یسیر اس کی صفت ہے، موصوف صفت ایک ہوا کرتے ہیں اس طریقہ سے مخبربہ اور مخبر عنہ واحد ہوگئے حالانکہ ان کو الگ ہونا چاہیے۔
جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ذلک کا مشار ایہ حشرٌ نہیں بلکہ اس کے معنی میں ہیں یعنی احیاء بعد الفناء اور جمع بین الاجزاء المتفرقۃ جو کہ مخبر عنہ ہے اور یسیر مخبر بہ ہے، اسی طرح مخبر عنہ اور مخبربہ دونوں الگ الگ ہوگئے، فلا اعتراض علیہ
تفسیر و تشریع
یوم نقول لجھنم ھل امتلات و تقول ھل من مزید اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورة آلم السجدۃ میں فرمایا ہے (لاملئن جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین) میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا، اس وعدہ کا جب ایفاء ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی یا نہیں ؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے جہنم سے اللہ تعالیٰ کی یہ گفتگو اور جہنم کا جواب دینا اللہ کی قدرت سے قطعاً بعید نہیں ہے، خاص طور پر موجود ہترقی کے دور نے تو یہ ثابت کردیا کہ بےجان و بےروح چیزوں کا بولنا نہ صرف یہ کہ ممکن ہے بلکہ واقع اور رات دن کا مشاہدہ ہے کہ پتھر اور دھات سے بنی ہوئی چیزیں ٹیپ رکارڈ اور سی ڈی، فلوپی وغیرہ کے بولنے کا ہم رات دن مشاہدہ کرتے ہیں، بعض حضرات نے اس سوال و جواب کو مجاز پر محمول کیا ہے اور محض صورت حال کی منظر کشی کے لئے جہنم کی کیفیت کو سوال و جواب کی شکل میں ذکر کیا گیا ہے جیسے مثلاً آپ اپنے قلم سے یوں کہیں کہ تو چلتا کیوں نہیں تو قلم اس کے جواب میں کہے کہ میں اس لئے نہیں چلتا کہ میرے اندر روشنائی نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزیں ہمارے لئے جامد اور صامت ہیں ان کے متعلق یہ سمجھ لینا درست نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی ویسی ہی جامد و صامت ہوں گی، خالق اپنی ہر مخلوق سے کلام کرسکتا ہے اور اس کی ہر مخلوق اس کے کلام کا جواب دے سکتی ہے، خواہ ہمارے لئے اس کی زبان کتنی ہی ناقابل فہم ہو۔
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ﴾ ” اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے؟“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہوگا ﴿وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ﴾ ” وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے؟“ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ﴿لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴾ (السجدۃ: 32؍13) ” میں جہنم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔“ حتیٰ کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔جہنم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گے، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔
11 Mufti Taqi Usmani
woh waqt ( yaad rakho ) jab hum jahannum say kahen gay kay : kiya to bhar gaee-? aur woh kahey gi kay : kiya kuch aur bhi hai ?
12 Tafsir Ibn Kathir
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لئے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہوگئی ؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو ۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا، صحیح بخاری میں ہے جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لئے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لئے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ مجھ میں جبر کرنے والے تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے مسند ابو یعلی میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا۔ میں سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوگا پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہوجائے گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گذرنے لگے گی بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہوجائیں گے بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہوجائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گذر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہوگا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔ لوگوں نے کہا حوض کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کرسکے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے ؟ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے ؟ میں بھر گئی، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے ؟ امام ابن جریر پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آسکے ؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہوگئی۔ حضرت عوفی حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لئے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ (اواب) کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ (حفیظ) کے معنی وعدوں کا پابند۔ حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں (اواب حفیظ) وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کرلے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہ نکلیں اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ خلود کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لئے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گذرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی حضرت کثیر فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہوجائے گا مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہوجائے گی، امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہوجائے گا اور آیت میں ہے آیت (للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ) صہیب بن سنان رومی فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہوگا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں تمہارے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی تمہارے لئے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام یوم المزید ہے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء (علیہ السلام) رونق افروز ہوتے ہیں یہ منبر سونے کے ہیں جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضامندی مطلوب ہے اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہوگیا اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہش مند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی اسی طرح اسے حضرت امام شافعی نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہوگی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہوگی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہوگا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہوجائے وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں " مزید " کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے لیکن تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہوگا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کردینے کے لئے کافی ہے۔