Skip to main content

فَلَوْلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُـلْقُوْمَۙ

فَلَوْلَآ
پس کیوں نہیں
إِذَا
جب
بَلَغَتِ
پہنچ جاتی ہے
ٱلْحُلْقُومَ
حلق کو۔ نرخرے کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے

احمد علی Ahmed Ali

پھر کس لیے روح کو روک نہیں لیتے جب کہ وہ گلے تک آ جاتی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بھلا جب روح گلے میں آ پہنچتی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اگر تم کسی کے محکوم نہیں) تو جب (مرنے والے کی) روح حلق تک پہنچ جاتی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان گلے تک پہنچ جائے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عالم نزع کی بےبسی
اسی مضمون کی آیتیں سورة قیامہ میں بھی ہیں۔ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کرسکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً 61؀) 6 ۔ الانعام ;61) اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کرلیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے۔ یہاں فرماتا ہے اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہوا اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہی حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو ؟ اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو ۔ پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔ تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہوگیا ؟ پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔