Skip to main content

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِىْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِىْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْـرَاَهَا ۗ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌۖ

مَآ
نہیں
أَصَابَ
پہنچتی
مِن
سے
مُّصِيبَةٍ
کوئی مصیبت
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
وَلَا
اور نہ
فِىٓ
میں
أَنفُسِكُمْ
تمہارے نفسوں
إِلَّا
مگر
فِى
میں ہے
كِتَٰبٍ
ایک کتاب
مِّن
اس سے
قَبْلِ
پہلے
أَن
کہ
نَّبْرَأَهَآۚ
ہم پیدا کریں اس کو
إِنَّ
بیشک
ذَٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرٌ
بہت آسان ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں بیشک یہ اللہ کو آسان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

جو کوئی مصیبت زمین پر یاخودتم پر پڑتی ہے وہ اس سے پیشتر کہ ہم اسے پیدا کریں کتاب میں لکھی ہوتی ہے بے شک یہ الله کے نزدیک آسان بات ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے (١) نہ (خاص) تمہاری جانوں میں (٢) مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے یہ کام اللہ تعالٰی پر بالکل آسان ہے۔ (۳)

٢٢۔١ مثلاً قحط، سیلاب اور دیگر آفات زمینی اور آسمانی۔
٢٢۔٢ مثلاً بیماریاں، تعب و تکان اور تنگ دستی وغیرہ۔
۲۲۔۳ یعنی اللہ نے اپنے علم کے مطابق تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی باتیں لکھ دی ہیں جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار پہلے ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (اور) یہ (کام) خدا کو آسان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کوئی بھی مصیبت زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے قبل اس کے کہ ہم ان (جانوں) کو پیدا کر دیں بیشک یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

زمین میں کوئی بھی مصیبت وارد ہوتی ہے یا تمہارے نفس پر نازل ہوتی ہے تو نفس کے پیدا ہونے کے پہلے سے وہ کتاب الۤہی میں مقدر ہوچکی ہے اور یہ خدا کے لئے بہت آسان شے ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بیشک یہ (علمِ محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آجاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے، یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔ صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی اور روایت میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا (ترمذی) پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کرلینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کرلینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہوچکی، ہوگی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہوجاؤ اسے عطیہ الٰہی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آجائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہوگی کہ یہ میرے دست وبازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں، حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گذار دو ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہوجائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔