Skip to main content

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۤدُّوْنَ مَنْ حَاۤدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْۤا اٰبَاۤءَهُمْ اَوْ اَبْنَاۤءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْۗ اُولٰۤٮِٕكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ۗ وَيُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۗ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۗ اُولٰۤٮِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ ۗ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

لَّا
نہ
تَجِدُ
تم پاؤ گے
قَوْمًا
ایک قوم کو
يُؤْمِنُونَ
جو ایمان رکھتی ہو
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَٱلْيَوْمِ
اور یوم
ٱلْءَاخِرِ
آخرت پر
يُوَآدُّونَ
وہ محبت رکھتے ہوں
مَنْ
اس سےجس نے
حَآدَّ
مخالفت کی
ٱللَّهَ
اللہ کی
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کی
وَلَوْ
اور اگرچہ
كَانُوٓا۟
ہوں وہ
ءَابَآءَهُمْ
ان کے آباؤ اجداد
أَوْ
یا
أَبْنَآءَهُمْ
ان کے بیٹے
أَوْ
یا
إِخْوَٰنَهُمْ
ان کے بھائی
أَوْ
یا
عَشِيرَتَهُمْۚ
ان کے اہل خاندان
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
كَتَبَ
اس نے واضح کردیا۔ لکھ دیا
فِى
میں
قُلُوبِهِمُ
ان کے دلوں (میں )
ٱلْإِيمَٰنَ
ایمان
وَأَيَّدَهُم
اور تائید کی ان کی
بِرُوحٍ
ساتھ ایک روح کے
مِّنْهُۖ
اس سے
وَيُدْخِلُهُمْ
اور وہ داخل کرے گا ان کو
جَنَّٰتٍ
باغوں میں
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
سے
تَحْتِهَا
ان کے نیچے (سے)
ٱلْأَنْهَٰرُ
نہریں
خَٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَاۚ
ان میں
رَضِىَ
راضی ہوگیا
ٱللَّهُ
اللہ
عَنْهُمْ
ان سے
وَرَضُوا۟
اور وہ راضی ہوگئے
عَنْهُۚ
اس سے
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
حِزْبُ
گروہ ہیں
ٱللَّهِۚ
اللہ کا
أَلَآ
سنو
إِنَّ
بیشک
حِزْبَ
گروہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
هُمُ
وہی ہیں
ٱلْمُفْلِحُونَ
جو فلاح پانے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہل خاندان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہل خاندان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،

احمد علی Ahmed Ali

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو الله اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے اور وہ انہیں بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے الله ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہی الله کا گروہ ہے خبردار بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے (۱) گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں (۲) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالٰی نے ایمان کو لکھ دیا (۳) ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی (٤) ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں، (۵) یہ خدائی لشکر ہے آگاہ رہو بیشک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں۔ ( ٦)

۲۲۔۱ اس آیت میں اللہ تعالٰی نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28) 3۔ آل عمران;28) (قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 24؀ۧ) 9۔ التوبہ;24)۔ وغیرہ۔
۲۲۔۲ اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ابو ت بنوت اخوت اور خاندان وبرادری کی محبت ورعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عملا ایسا کر کے دکھایا ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ اپنے بیٹے اپنے بھائی اور اپنے چچا ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے سیر وتواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کردیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالٰی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67؀) 8۔ الانفال;67) کا حاشیہ۔
۲۲۔۳ یعنی راسخ اور مضبوط کردیا ہے۔
۲۲۔٤ روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔
۲۲۔۵ یعنی جب یہ اولین مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز واقارب سے ناراض ہوگئے حتی کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔ اگرچہ خاص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان رضی اللہ عنہ کا مستحق بن سکتا ہے جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر علیہ الصلوۃ والسلام کا دعائیہ جملے کے طور پر اطلاق کیا جاسکتا ہے لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں رضی اللہ عنہم صحابہ کے لیے اور علیہم الصلواۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے رحمۃ اللہ علیہ اللہ کی رحمت اس پر ہو یا اللہ اس پر رحم فرما‏ئے کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہوچکا ہے اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ ۲۲۔ ٦ یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہوگا دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کردیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے۔ (اور) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تم کوئی ایسی قوم نہیں پاؤگے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو (اور پھر) وہ دوستی رکھے ان لوگوں سے جو خدا و رسول(ص) کے مخالف ہیں اگرچہ وہ (مخالف) ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی ہی ہوں یا ان کے قبیلے والے یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی تائید کی ہے اور انہیں ایسے باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ رہو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا (اور کامیاب ہونے والا) ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کررہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرہ اور قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں - اللرُنے صاحبان هایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی اپنی خاص روح کے ذریعہ تائید کی ہے اور وہ انہیں ان جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ا ن ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے - خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے راضی ہوں گے یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے،