Skip to main content

وَقَالُوْا مَا فِىْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۤءُ ۗ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ ۗ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ

وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
مَا
جو کچھ
فِى
میں
بُطُونِ
پیٹوں میں ہے
هَٰذِهِ
ان
ٱلْأَنْعَٰمِ
مویشیوں کے
خَالِصَةٌ
خالص ہے
لِّذُكُورِنَا
ہمارے مردوں کے لئے
وَمُحَرَّمٌ
اور حرام کیا گیا
عَلَىٰٓ
پر
أَزْوَٰجِنَاۖ
ہماری عورتوں پر / بیویوں پر
وَإِن
اور اگر
يَكُن
ہو
مَّيْتَةً
وہ مردار
فَهُمْ
تو وہ
فِيهِ
اس میں
شُرَكَآءُۚ
سب شریک ہیں
سَيَجْزِيهِمْ
عنقریب بدلہ دے گا ان کو
وَصْفَهُمْۚ
ان کے بیان کا / ان کی حالت کا
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
حَكِيمٌ
حکمت والا ہے
عَلِيمٌ
علم والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بولے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ نرا (خالص) ہمارے مردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں اِن کی اُن باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت و علم والا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور کہتے ہیں جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتو ں پر حرام ہے اور جو بچہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں برابر ہیں الله انہیں ان باتو ں کی سزا دے گا بے شک وہ حکمت والا جاننے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور وہ کہتے ہیں کہ جو چیز مویشی کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہیں۔ اور اگر وہ مردہ ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔(۱) ابھی اللہ ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے (۲) بلاشبہ وہ حکمت والا اور بڑا علم والا ہے۔

١٣٩۔١ یہ ایک اور شکل ہے کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام وقف کرتے، ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت برابر ہیں۔
١٣٩۔۲ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ جو غلط بیانی کرتے ہیں اور اللہ پر افترا باندھتے ہیں، ان پر اللہ تعالٰی انہیں سزا دے گا۔ وہ اپنے فیصلوں میں حکیم ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں پوری طرح علم رکھنے والا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے مطابق وہ جزا اور سزا کا اہتمام فرمائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور وه کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں ہے وه خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر وه مرده ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ ابھی اللہ ان کو ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے بلاشبہ وه حکمت واﻻ ہے اور وه بڑا علم واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ کہتے ہیں کہ جو ان چوپاؤں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردار ہوں تو وہ سب اس میں شریک ہیں عنقریب اللہ ان کو اس بات بنانے کا بدلہ دے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کہتے ہیں کہ ان چوپاؤں کے پیٹ میں جو بچے ّہیں وہ صرف ہمارے مذِدوں کے لئے ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں -ہاں اگر مفِدار ہوں تو سب شریک ہوں گے ,عنقریب خدا ان بیانات کا بدلہ دے گا کہ وہ صاحب هحکمت بھی ہے اور سب کا جاننے والا بھی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نذر نیاز
ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کردیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بےحکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔