Skip to main content

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۗ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ

وَإِن
اور اگر
يَمْسَسْكَ
پہنچائے تم کو
ٱللَّهُ
اللہ
بِضُرٍّ
کوئی نقصان
فَلَا
تو نہیں
كَاشِفَ
کوئی دور کرنے والا
لَهُۥٓ
اس کے لیے
إِلَّا
مگر
هُوَۖ
وہی
وَإِن
اور اگر
يَمْسَسْكَ
پہنچائے تم کو
بِخَيْرٍ
کوئی بھلائی
فَهُوَ
تو وہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کے
قَدِيرٌ
قادر ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر الله تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تواس کے سوا اور کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالٰی کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالٰی کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہرچیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے (١)۔

١٧۔١ یعنی نفع و ضرر کا مالک، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے والا صرف اللہ ہے اور اس کے حکم و قضا کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ ایک حدیث میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد (صحیح بخاری، مسلم ) جس کو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے تو اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں نفع نہیں پہنچا سکتی ' نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھاکرتے تھے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے واﻻ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وه ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اگر خدا تمہیں کوئی ضرر و زیاں پہنچانا چاہے تو اس کے پاس اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اگر خدا کی طرف سے تم کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کے علاوہ کوئی ٹالنے والا بھی نہیں ہے اور اگر وہ خیر دے دے تو وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 35 ۔ فاطر ;2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس کے بعد فرماتا ہے وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اسکی کبریائی اس کی عظمت اسکی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے باخبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت سے، پھر فرماتا ہے پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے ؟ جواب دے کر مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ) 11 ۔ ہود ;17) یعنی دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے۔ حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کرلیں اور اس پر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کا دین پیش کردیا۔ حضرت قتادہ کا قول ہے اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔ حضرت ربیع بن انس کا قول ہے اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ ) 6 ۔ الانعام ;150) یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن۔ یہاں فرمایا تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں پھر فرماتا ہے یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور باخبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بےایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں، حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہوچکے جو نبی آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے ؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔