Skip to main content

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۗ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

فَقُطِعَ
پس کاٹ دی گئی
دَابِرُ
جڑ
ٱلْقَوْمِ
اس قوم کی
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ظَلَمُوا۟ۚ
جنہوں نے ظلم کیا
وَٱلْحَمْدُ
اور سب تعریف
لِلَّهِ
اللہ کے لیے ہے
رَبِّ
جو رب ہے
ٱلْعَٰلَمِينَ
سارے جہان کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا

احمد علی Ahmed Ali

پھر ان ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور الله ہی کے لیے سب تعریف ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر ظالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالٰی کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ (١)۔

٤٥۔١ اس میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالٰی یہی بیان فرماتا ہے کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، یہاں تک کہ جب اس میں خوب مگن ہو جاتی ہیں اور اپنی مادی خوش حالی و ترقی پر اترانے لگ جاتی ہیں تو پھر ہم اچانک انھیں اپنے مواخذے کی گرفت میں لے لیتے ہیں اور جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالٰی نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل دینا) ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، قرآن کریم کی آیت اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ دنیاوی ترقی اور خوشحالی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ جس فرد یا قوم کو یہ حاصل ہو تو وہ اللہ کی چہیتی اور اللہ تعالٰی اس سے خوش ہے جیسا کہ بعض لوگ ایسا سمجھتے ہیں بلکہ بعض تو انھیں ( اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ) 21۔ الانبیاء;105) (مصداق قرار دیکر انھیں اللہ کے نیک بندے تک قرار دیتے ہیں) ایسا سمجھنا اور کہنا غلط ہے۔ گمراہ قوموں یا افراد کی دنیاوی خوش حالی ابتلا اور مہلت کے طور پر ہے نہ کہ یہ ان کے کفر و معاصی کا صلہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر ﻇالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی (ان کی نسل قطع ہوگئی) اور سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر ظالمین کا سلسلہ منقطع کردیا گیا اور ساری تعریف اس خد اکے لئے ہے جو رب العالمین ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے،