Skip to main content

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰـهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَأْتِيْكُمْ بِهۗ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُوْنَ

قُلْ
کہہ دیجیے
أَرَءَيْتُمْ
کیا دیکھا تم نے
إِنْ
اگر
أَخَذَ
لے لے ۔ چھین لے
ٱللَّهُ
اللہ
سَمْعَكُمْ
تمہاری سماعت کو
وَأَبْصَٰرَكُمْ
اور تمہاری بصارت کو۔ نگاہوں کو
وَخَتَمَ
اور مہر لگا دے
عَلَىٰ
پر
قُلُوبِكُم
تمہارے دلوں
مَّنْ
کون
إِلَٰهٌ
الہ ہے
غَيْرُ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
يَأْتِيكُم
جو لائے گا تمہارے پاس
بِهِۗ
اس کو
ٱنظُرْ
دیکھو
كَيْفَ
کس طرح
نُصَرِّفُ
ہم پھیر پھیر کر لاتے ہیں
ٱلْءَايَٰتِ
آیات کو
ثُمَّ
پھر
هُمْ
وہ
يَصْدِفُونَ
اعراض برتتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چرا جاتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چرا جاتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

ان سے کہہ دو دیکھو تو سہی اگر الله ہی کے لیے سب تعریف ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہےاگر الله تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو الله کے سوا کوئی ایسا رب ہے جو تمہیں یہ چیزیں لادے دیکھ ہم کیوں کر طرح طرح کی نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ منہ موڑتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالٰی تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ تعالٰی کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے کہ یہ تم کو پھیر دے۔ آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں (١)۔

٤٦۔١ آنکھیں کان اور دل، یہ انسان کے نہایت اہم اعضا ہیں۔ اللہ تعالٰی فرما رہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان کی وہ خصوصیات سلب کر لے، جو اللہ نے ان کے اندر رکھی ہیں یعنی سننے دیکھنے اور سمجھنے کی خصوصیات، جس طرح کافروں کے یہ اعضا ان خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں۔ یا اگر وہ چاہے تو اعضا کو ویسے ہی ختم کر دے، وہ دونوں ہی باتوں پر قادر ہے، اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ مگر یہ کہ وہ خود کسی کو جچانا چاہے آیات کو مختلف پہلووں سے پیش کرنے کا مطلب ہے کبھی انذار وتبشیر اور ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اور کبھی کسی اور ذریعے سے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو خداکے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ردگردانی کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ تم کو پھر دے دے۔ آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دﻻئل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے رسول کہیے غور کرکے بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے (یعنی قوت شنوائی اور بینائی چھین لے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا اور کون خدا ہے جو تمہیں یہ چیزیں لا دے؟ دیکھئے ہم کس طرح الٹ پلٹ کر اپنی توحید کی نشانیاں واضح کرتے ہیں پھر بھی وہ روگردانی کرتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ ان سے پوچھئے کہ اگر خد انے ان کی سماعت و بصارت کو لے لیا اور ان کے دل پر مہر لگادی تو خدا کے علاوہ دوسرا کون ہے جو دوبارہ انہیں یہ نعمتیں دے سکے گا دیکھو ہم اپنی نشانیوں کو کس طرح الٹ پلٹ کر دکھلاتے ہیں اور پھر بھی یہ منہ موڑ لیتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ان سے) فرما دیجئے کہ تم یہ تو بتاؤ اگر اﷲ تمہاری سماعت اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مُہر لگا دے (تو) اﷲ کے سوا کون معبود ایسا ہے جو یہ (نعمتیں دوبارہ) تمہارے پاس لے آئے؟ دیکھئے ہم کس طرح گونا گوں آیتیں بیان کرتے ہیں پھر(بھی) وہ روگردانی کئے جاتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

محروم اور کامران کون ؟
فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ) 23 ۔ المؤمنون ;78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ) 10 ۔ یونس ;31) کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو ؟ اور فرمان ہے آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ) 8 ۔ الانفال ;24) جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے، یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے ؟ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کردیئے ہیں اور یہ ثابت کردیا کہ میرے سوا سب بےبس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں، پھر فرماتا ہے ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بیخبر ی میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آجائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی ؟ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 6 ۔ الانعام ;82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن وامان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ پھر فرمایا کہ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔