اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے، اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن ان کے اوپر آٹھ (فرشتے یا فرشتوں کے طبقات) اٹھائے ہوئے ہوں گے،
English Sahih:
And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].
1 Abul A'ala Maududi
فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
2 Ahmed Raza Khan
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
3 Ahmed Ali
اور اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے اور عرشِ الہیٰ کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
4 Ahsanul Bayan
اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہونگے (١)
١٧۔ ١ یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالٰی نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے
6 Muhammad Junagarhi
اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ(ص) کے پرورگار کے عرش کو اس دن آٹھ (فرشتے) اٹھائے ہوں گے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور فرشتے اس کے اطراف پر ہوں گے اور عرش الہٰی کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے
9 Tafsir Jalalayn
اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آینگے اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہونگے ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو گمراہی کے خطرہ میں مبتلا کرنا ہے، البتہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن مجید میں اللہ کی حکومت اور فرمانروائی اور اس کے معاملات کا تصور دلانے کے لئے لوگوں کے سامنے وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں بادشاہی کا نقشہ ہوتا ہے اور اس کے لئے وہی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو انسانی زبانوں میں سلطنت اور اس کے مظاہر ولوازم کے لئے مستعمل ہیں، کیونکہ انسانی ذہن اسی نقشہ اور انہیں اصطلاحات کی مدد سے کسی حد تک کائنات کی سلطانی کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے، یہ سب کچھ حاصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب تر کرنے کے لئے ہے، اس کو بالکل لفظی معنوں میں لینا درست نہیں ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
﴿ وَالْمَلَكُ ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جوا نتہائی طاقت ور ہوں گے )یہ اس وقت ہوگا( جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل وانصاف اور اپنے فضل وکرم کے ساتھ ،فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا : ﴿ يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur farishtay uss kay kinaron per hon gay , aur tumharay perwerdigar kay arsh ko uss din aath farishtay apney oopper uthaye huye hon gay .