Skip to main content

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ

فَلَآ
پس نہیں
أُقْسِمُ
میں قسم کھاتا ہوں
بِمَا
ساتھ اس کے
تُبْصِرُونَ
جو تم دیکھتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،

احمد علی Ahmed Ali

سو میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

میں اس کی بھی قسم کھاتا ہوں جسے تم دیکھ رہے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو میں قَسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ظاہر و باطن آیات الٰہی
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتاری ہے، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔ رسول کریم سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، اس کی اضافت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس لئے کئی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورة تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے آیت ( اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69 ۔ الحاقة ;40) ، یعنی یہ قول اس بزرگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے جو قوت والا اور مالک عرش کے پاس رہنے والا ہے وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے اور ہے بھی وہ امانت دار، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، اسی لئے اس کے بعد فرمایا تمہارے ساتھی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون نہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں، نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے، اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے، پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر اٰمین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے ؟ اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے، حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے، اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔ فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی، پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر (رض) کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ (رض) کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ