Skip to main content

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ   ۗ ذٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِىْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ

خَٰشِعَةً
دبی ہوئی ہوں گی۔ جھکی ہوئی ہوں گی
أَبْصَٰرُهُمْ
ان کی نگاہیں
تَرْهَقُهُمْ
چھا رہی ہوں گی ان پر
ذِلَّةٌۚ
ذلت
ذَٰلِكَ
یہ ہے
ٱلْيَوْمُ
دن
ٱلَّذِى
جو
كَانُوا۟
وہ تھے
يُوعَدُونَ
وعدہ کیے گئے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی وہ دن ہے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی وہ دن ہے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ تھا

احمد علی Ahmed Ali

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی ان پر ذلت چھا رہی ہو گی یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہونگیں (١) ان پر ذلت چھا رہی ہوگی (٢) یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا (٣)۔

٤٤۔١ جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔
٤٤۔٢ یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوگی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔
٤٤۔٣ یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھا رہی ہوگی، یہ ہے وه دن جس کا ان سے وعده کیا جاتا تھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذلت و رسوائی چھائی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جاتا تھا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ذلت ان پر چھائی ہوگی اور یہی وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ان کا) حال یہ ہو گا کہ ان کی آنکھیں (شرم اور خوف سے) جھک رہی ہوں گی، ذِلت ان پر چھا رہی ہوگی، یہی ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا،