Skip to main content

اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ

إِنَّ
بیشک
ٱلْأَبْرَارَ
نیک لوگ
يَشْرَبُونَ
پیئیں گے
مِن
سے
كَأْسٍ
ایک ساغر
كَانَ
ہے
مِزَاجُهَا
اس کی آمیزش
كَافُورًا
کافور سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک نیک ایسی شراب کے پیالے پئیں گے جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہو گی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی امیزش کافور کی ہے۔ (۱)

۵۔۱کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہو جائے گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بلاشبہ نیکوکار (جنت میں شرابِ طہور کے) ایسے جام پئیں گے جن میں (آبِ کافور) کی آمیزش ہوگی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک ہمارے نیک بندے اس پیالہ سے پئیں گے جس میں شراب کے ساتھ کافور کی آمیزش ہوگی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک مخلص اِطاعت گزار (شرابِ طہور کے) ایسے جام پئیں گے جس میں (خوشبو، رنگت اور لذت بڑھانے کے لئے) کافور کی آمیزش ہوگی،