اے ایمان والو! اگر تم اللہ کا تقوٰی اختیار کرو گے (تو) وہ تمہارے لئے حق و باطل میں فرق کرنے والی حجت (و ہدایت) مقرر فرما دے گا اور تمہارے (دامن) سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
English Sahih:
O you who have believed, if you fear Allah, He will grant you a criterion and will remove from you your misdeeds and forgive you. And Allah is the possessor of great bounty.
1 Abul A'ala Maududi
اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
3 Ahmed Ali
اے ایمان والو اگر تم الله سے ڑرتے رہو گے تو الله تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور الله بڑے فضل والا ہے
4 Ahsanul Bayan
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالٰی تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالٰی بڑے فضل والا ہے۔
٢٩۔١ تقویٰ کا مطلب ہے، اوامر الٰہی کی مخالفت اور اس کی مناہی کے ارتکاب سے بچنا اور فرقان کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیزتر اور ہدایت کا راستہ واضح تر ہو جاتا ہے، جس سے انسان کو ہر ایسے موقعے پر، جب عام انسان شک و شبہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں، صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے۔ علاوہ ازیں فتح اور نصرت اور نجات و مخرج بھی اس کے معنی کئے گئے ہیں۔ اور سارے ہی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ تقویٰ سے یقینا یہ سارے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کفر، مغفرت گناہ اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے
6 Muhammad Junagarhi
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناه دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
اے ایمان والو اگر تم تقوائے الٰہی اختیار کرو۔ تو خدا تمہیں حق و باطل میں تفرقہ کرنے کی قوت و صلاحیت عطا فرمائے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو ڈھانپ لے گا (پردہ پوشی کرے گا) اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بڑا فضل (و کرم) والا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ایمان والو اگر تم تقوٰی الٰہی اختیار کرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں تفرقہ کی صلاحیت عطا کردے گا -تمہاری برائیوں کی پردہ پوشی کرے گا -تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا کہ وہ بڑا فضل کرنے والا ہے
9 Tafsir Jalalayn
مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔ آیت نمبر ٢٩ تا ٣٧ اور حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اور اس چیز کے درمیان جس سے تم خوف رکھتے ہو ایک فیصلے کی چیز عطا کرے گا تو تم نجات پاؤ گے، اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے اور اے محمد وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کافر تمہارے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے اور آپ کے بارے میں مشورہ کے لئے دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے، تاکہ تمہیں قید کریں، یعنی آپ کو باندھ لیں اور محبوس کرلیں، یا سب مل کر آپ کو قتل کردیں یعنی متحد ہو کر ایک قاتل کے آپ کو قتل کردیں، یا مکہ سے آپ کو نکل دیں، وہ تو آپ کے بارے میں تدبیر کررہے تھے، اور اللہ آپ کے معاملہ میں ان کے ساتھ تدبیر کررہا تھا بایں صورت کہ اس نے بذریعہ وحی ان کی تدبیر کی آپ کو خبر دیدی اور آپ کو (مکہ سے) نکلنے کی اجازت دیدی، اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے (یعنی) تدبیر کے بارے میں ان سے زیادہ جاننے والا ہے، جب ان کو ہماری آیتیں قرآن سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے ہاں سن لیا ہم نے، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ہی باتیں بنا کر لاسکتے ہیں، یہ بات نضربن حارث نے کہی تھی، چونکہ وہ تجارت کے سلسلہ میں حیَرہ جایا کرتا تھا اور عجمیوں کی تاریخ کی کتابیں خرید لاتا تھا، اور وہ اہل مکہ کو سنایا کرتا تھا، یہ قرآن محض پہلے لوگوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں (اور وہ بات بھی یاد رہے) جو انہوں نے کہی تھی اے اللہ اگر یہ جس کو محمد پڑھتے ہیں آپ کے پاس سے نازل کردہ ہے تو اوپر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہمارے اوپر لے آ یعنی اس کے انکار پر دردناک عذاب نازل کردے، یہ بات نضربن حارث یا کسی دوسرے نے استہزاء کہی یا یہ تاثر دینے کے لئے کہی کہ وہ علی وجہ البصیرت یہ بات کہہ رہا ہے یا قرآن کے بطلان کا یقین رکھتے ہوئے کہی (اس وقت تو) اللہ ان پر ان کا مطلوبہ عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ آپ ان کے درمیان موجود تھے اسلئے کہ عذاب جب نازل ہوتا ہے تو عمومی ہوتا ہے، اور کسی امت کو عذاب نہیں دیا گیا ان کے نبی اور مومنیں کو وہاں سے نکال کر، اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کررہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے جبکہ وہ اپنے طواف کے دوران ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں کہہ رہے ہوں اور کہا گیا ہے کہ مراد کمزور مومن ہیں جو ان میں رہ رہے تھے جیسا کہ اللہ نے فرمایا \&\& لو تَزیَّلُوا لَعَذّبنا الَّذِیْنَ کفروا منھم عذابًا الیماً \&\& یعنی اگر وہ وہاں سے ٹل گئے ہوتے تو ہم ان میں سے منکرین حق کو درد ناک عذاب دیتے، لیکن اب آپ کے اور ضعفاء مسلمین کے نکلنے کے بعد کیوں نہ ان کو اللہ تلوار کے ذریعہ عذاب کا مزا چکھائے اول قول (یعنی کفار کے حالت طواف میں استغفار کرنے کی صورت میں) یہ آیت ما قبل کی آیت کے لئے ناسخ ہے چناچہ (اہل مکہ کو) بدروغیرہ میں عذاب دیا گیا، جبکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان کو مسجد حرام میں طواف کرنے سے روک رہے ہیں حالانکہ وہ مسجد حرام کے (جائز) متولی نہیں ہیں، جیسا کہ ان کا دعوی ہے، اس کے (جائز) متولی تو صرف اہل تقویٰ ہی ہوسکتے ہیں، لیکن اکثر لوگ اس بات کو اس پر ولایت حاصل نہیں ہے نہیں جانتے بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز بس سیٹیاں بجانا اور تالیاں پٹنا ہے، یعنی اس عمل کو انہوں نے نماز کے قائم مقام کرلیا تھا جس کے وہ مامور تھے، لو اب بدر میں انکار حق کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو بلا شبہ یہ کافر اپنے مالوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑنے میں صرف کررہے ہیں تاکہ اللہ کے راستہ سے روکیں ابھی اور خرچ کریں گے پھر یہ انجام کار مال کے ضائع ہونے اور مقصد حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ندامت ہوگی پھر وہ دنیا میں مغلوب کئے جائیں گے اور پھر یہ کافر آخرت میں جہنم کی طرف گھیر کر لائے جائیں گے، تاکہ اللہ کافر کر مومن سے ممتاز کردے (لیمیز) تخفیف اور تشدید کے ساتھ تکون کے متعلق ہے، اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر جمع کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں پھینکدے یہی کو گ اصلی دیوالیے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بِدَارِ النَدْوَةِ ، دارالند وہ کر قریش کے جدا بعد قصی بن کلاب نے بنایا تھا۔ قولہ : بتَدْ بِیْرِاَ مْرِکَ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یمکر اللہ، بطور مجاز مرسل کے استعمال ہوا ہے، مکر ذکر کے اسکار دمقصد ہے قولہ : وعلی القَوْلِ الاَ وَّلِ ھِیَ نَا سِخَة م لہٰذا آیت سابقہ اور لاحقہ میں اب کوئی تعارض نہیں۔ تفسیر وتشریح یٰا یّھا الَّذِیْنَ آمنو ان تتقوا اللہ، اس آیت میں سابقہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے اس کا مضمون یہ ہے جو شخص عقل کو طبعت پر غالب رکھ کر اس آزمائش میں ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و محبت کو سب چیزوں پر مقدم رکھے اسی کو قرآن و سنت کی اصلاح میں متقی کہتے ہیں اس آیت میں ایک لفظ فرقان آیا ہے، اس کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے، مطلب یہ ہے کہ تقوے کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیز، جس سے انسان کو ہر ایسے موقع پر جب عام انسان التباس اور اشتباہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے علاوہ ازیں فتح، نصرت، نجات، مخرج، ہدایت، کسوٹی، اور یہ سارے ہی معنی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقوے سے یقینا یہ سارے معنی حاصل ہوسکتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ تکفیر سیئات، مغفرتِ ذنوب اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کا دار ومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (٢، ٣) برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں۔ (اَلسِّیئَات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ ہے اور ﴿ َلذُّنُوب ﴾ گناہوں و بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (٤) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لئے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴾ ” اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔ “
11 Mufti Taqi Usmani
aey emaan walo ! agar tum Allah kay sath taqwa ki rawish ikhtiyar kero gay to woh tumhen ( haq o batil ki ) tameez ata kerday ga , aur tumhari buraiyon ka kaffara kerday ga , aur tumhen maghfirat say nawazay ga , aur Allah fazal-e-azeem ka malik hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
دنیا و آخرت کی سعادت مندی فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لئے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔