اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، (اے مسلمانو!) اگر تم (ایک دوسرے کے ساتھ) ایسا (تعاون اور مدد و نصرت) نہیں کرو گے تو زمین میں (غلبۂ کفر و باطل کا) فتنہ اور بڑا فساد بپا ہو جائے گا،
English Sahih:
And those who disbelieved are allies of one another. If you do not do so [i.e., ally yourselves with other believers], there will be fitnah [i.e., disbelief and oppression] on earth and great corruption.
1 Abul A'ala Maududi
جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا
2 Ahmed Raza Khan
اور کافر ا ٓ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا
3 Ahmed Ali
اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اگر تم یوں نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ پھیلے گا اوروہ بڑا فساد ہوگا
4 Ahsanul Bayan
کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا (١)
٧٣۔١ یعنی جس طرح کافر ایک دوسرے کے دوست اور حمایتی ہیں اس طرح اگر تم نے بھی ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی حمایت اور کافروں سے عدم موالات نہ کی، تو پھر بڑا فتنہ اور فساد ہوگا اور یہ کہ مومن اور کافر کے باہمی اختلاط اور محبت وموالات سے دین کے معاملے میں اشتباہ اور مداہنت پیدا ہو گی۔ بعض نے (بعضھم اولیآء بعض) سے وارث ہونا مراد لیا ہے یعنی کافر ایک دوسرے کے وارث ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے جیسا کہ احادیث میں اسے وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے اگر تم وراثت میں کفر و ایمان کو نظر انداز کرکے محض قرابت کو سامنے رکھو گے تو اس سے بڑافتنہ اور فساد پیدا ہوگا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا
6 Muhammad Junagarhi
کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا
7 Muhammad Hussain Najafi
اور جو کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جو لوگ کفر والے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور اگر تم ایمان والوں کی مدد نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور عظیم فساد برپا ہوجائے گا
9 Tafsir Jalalayn
اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔ وَالذین کفروا بعضھم اولیاء بعض، یہاں ولایت کے معنی اشتراک عداوت کے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین قریش آپس میں شدید دشمن تھے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں سب ایک ہوگئے تھے اور یہ صورت حال آج تک چلی آرہی ہے غیر قومیں کیسی ہی ایک دوسرے کی دشمن ہوں لیکن اسلام کے مقابلہ میں سب ایک ہوجاتی ہیں۔ (ماجدی) لفظ ولی چونکہ ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی اسلئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے مذہب میں رائج ہے ان کے درمیان اسی کو نافذ کیا جائیگا، نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی، لڑکیوں کے نکاح کا ولی بھی ان ہی میں سے ہوگا، مطلب یہ کہ ان کے عائلی مسائل اسلامی حکومت میں محفوظ رکھے جائیں گے۔ اِلاّ........، اگر اس فقرے کا تعلق، والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کفار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اے اہل ایمان، آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو گے تو زمین میں فساد عظیم برپا ہوگا، الا تفعلوہ تکن فتنتہ الخ کا تعلق اگر مذکورہ تمام احکام کے ساتھ ہو جو آیت ٧٢ سے یہاں تک بیان ہوئے ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا مثلاً یہ کہ مہاجرین و انصار کو آپس میں ایک دوسرے کا ولی ہونا چاہیے جس میں باہمی امداد و اعانت بھی داخل ہے اور وارثت بھی، دوسرے یہ کہ اس وقت کے مہاجر و غیر مہاجر کے درمیان وراثت کا تعلق نہ ہونا چاہیے مگر دینی رشتہ کی بنیاد پر امداد و نصرت کا تعلق اپنی شرائط کے ساتھ باقی رہنا چاہیے، تیسرے یہ کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہیں ان کے قانون ولایت و وراثت میں کسی قسم کی دخل اندازی مسلمان کو نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا گیا تو زمین میں فتنہ و فساد پھیل پڑے گا، یہ تنبیہ غالباً اس لئے کی گئی ہے کہ جو احکام اس جگہ بیان ہوئے ہیں وہ عدل و انصاف اور امن عامہ کے لئے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان آیات نے یہ واضح کردیا کہ باہمی امداد و اعانت اور وراثت کا تعلق جیسے رشتہ داری پر مبنی ہے ایسے ہی اس میں مذہبی اور دینی رشتہ بھی قابل لحاظ ہے بلکہ نسبی رشتہ پر دینی رشتہ کع ترجیح حاصل ہے اسی وجہ سے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ آپس میں نسبی رشتہ سے باپ اور بیٹے یا بھائی ہی کیوں نہ ہوں، اس کے ساتھ ہی مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دے دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگرچہ قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی مقدم اور قابل ترجیح ہے، مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں اسی طرح یہ ہدایت بھی دیدی گئی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں ان کی شخص ولایت و وراثت میں مداخلت نہ کی جائے دیکھنے میں تو یہ جزائی احکام اور فروغی مسائل ہیں مگر درحقیقت امن عالم کے لئے عدل و انصاف کے بہترین اور جامع بنیادی اصول ہیں اسی لئے اس جگہ ام احکام کو بیان فرمانے کے بعد ایسے الفاظ سے تنبیہ فرمائی گئی جو عام طور پر دوسرے احکام کے لئے نہیں کی گئی کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پر پا ہوجائیگا، ان الفاظ میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احکام فتنہ و فساد روکنے میں خاص دخل و اثر رکھتے ہیں، تیسری آیت میں مکہ سے شہادت اور ان کی مغفرت اور با عزت روزی کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کردیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کردیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿إِلَّا تَفْعَلُوهُ﴾ ” تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے“ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے، یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے، یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے ﴿ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ ” تو ملکوں میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔“ یعنی حق و باطل اور مومن و کافر کے اختلاط سے ایک ایسی برائی جنم لے گی جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اور بہت سی بڑی بڑ ی عبادات مثلاً جہاد اور ہجرت وغیرہ معدوم ہوجائیں گی۔ جب اہل ایمان صرف اہل ایمان ہی کو اپنا دوست اور حمایتی نہیں بنائیں گے تو شریعت اور دین کے اس قسم کے مقاصد فوت ہوجائیں گے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur jinn logon ney kufr apna rakha hai , woh aapas mein aik doosray kay wali waris hain . agar tum aisa nahi kero gay to zameen mein fitna aur bara fasad barpa hoga .
12 Tafsir Ibn Kathir
دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہوسکتے۔ اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ اسے امام ترمذی (رح) حسن کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ نے عہد لیا کہ نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جب اور جہاں شرک کی آگ بھڑک اٹھے تو اپنے آپ کو ان کا مقابل اور ان سے برسر جنگ سمجھنا۔ یہ روایت مرسل ہے اور مفصل روایت میں ہے آپ فرماتے ہیں میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں ٹھہرا رہے۔ کیا وہ دونوں جگہ لگی ہوئی آگ نہیں دیکھتا ؟ ابو داؤد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جو مشرکوں سے خلا ملا رکھے اور ان میں ٹھہرا رہے وہ انہی جیسا ہے۔ ابن مردویہ میں ہے اللہ کے رسول رسولوں کے سرتاج حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم رضامند ہو تو اس کے نکاح میں دے دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں زبردست فتنہ فساد برپا ہوگا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ چاہے وہ انہیں میں رہتا ہو آپ نے پھر فرمایا جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام نکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم خوش ہو تو اس کا نکاح کردو تین بار یہی فرمایا۔ آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہوجائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہوجائے گا۔