Skip to main content

وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا ۗ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيْهِ ۗ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا ۗ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

وَعَلَى
اور اوپر
ٱلثَّلَٰثَةِ
تین کے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
خُلِّفُوا۟
جن کا معاملہ ملتوی کردیا گیا
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
ضَاقَتْ
تنگ ہوگئی
عَلَيْهِمُ
ان پر
ٱلْأَرْضُ
زمین
بِمَا
باوجود اس کے
رَحُبَتْ
جو وہ کھلی تھی
وَضَاقَتْ
اور تنگ ہوگئے
عَلَيْهِمْ
ان پر
أَنفُسُهُمْ
ان کے نفس
وَظَنُّوٓا۟
اور انہوں نے جان لیا۔ یقین کرلیا
أَن
کہ
لَّا
نہیں
مَلْجَأَ
کوئی جائے پناہ
مِنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
إِلَّآ
مگر
إِلَيْهِ
اس کی طرف
ثُمَّ
پھر
تَابَ
وہ مہربان ہوا
عَلَيْهِمْ
ان پر
لِيَتُوبُوٓا۟ۚ
تاکہ وہ توبہ کریں
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہی
ٱلتَّوَّابُ
توبہ قبول کرنے والا
ٱلرَّحِيمُ
مہربان ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا یہاں تک کہ جب ان پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ الله سے کوئی پناہ نہیں سو اسی کی طرف آنے کے پھر بھی اپنی رحمت سے ان پر متوجہ ہوا تاکہ وہ توبہ کریں بے شک الله توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا (١) یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے (٢) اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں (٣) بیشک اللہ تعالٰی بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔

١١٨۔١ خلفو کا وہی مطلب ہے جو مرجون کا ہے یعنی جن کا معاملہ مؤخر اور ملتوی کر دیا گیا تھا اور پچاس دن کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ یہ تین صحابہ تھے۔ کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم یہ تینوں نہایت مخلص مسلمان تھے۔ اس سے قبل ہر غزوے میں شریک ہوتے رہے۔ اس غزوہ تبوک میں صرف بوجہ غفلت شریک نہیں ہوئے بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو سوچا کہ ایک غلطی (پیچھے رہنے کی) تو ہو ہی گئی ہے۔ لیکن اب منافقین کی طرح رسول اللہ کی خدمت میں جھوٹا عذر پیش کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ چنانچہ حاضر خدمت ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کر لیا اور اس کی سزا کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ نبی نے انکے معاملے کو اللہ تعالٰی کے سپرد کر دیا کہ وہ ان کے بارے میں کوئی حکم نازل فرمائے گا تاہم اس دوران صحابہ کرام کو ان تینوں افراد سے تعلق قائم رکھنے حتٰی کے بات چیت تک کرنے سے روک دیا اور چالیس راتوں کے بعد انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی دور رہیں مذید دس دن گزرے تو توبہ قبول کر لی گئی اور مزکورہ آیت نازل ہوئی (اس واقعہ کی پوری تفصیل حضرت کعب بن مالک سے مروی حدیث میں موجود ہے۔ ملاحظہ ہو (صحیح بخاری)
١١٨۔ ٢ یہ ان ایام کی کیفیت کا بیان ہے۔ جس سے سوشل بائیکاٹ کی وجہ سے انہیں گزرنا پڑا۔
١١٨۔٣ یعنی پچاس دن کے بعد اللہ نے ان کی آہ و زاری اور توبہ قبول فرمائی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وه خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناه نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وه آئنده بھی توبہ کرسکیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے واﻻ بڑا رحم واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اللہ نے ان تینوں پر بھی رحم کیا جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ زمین جب اپنی وسعتوں سمیت ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے دم پر بن گئی اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے تو اللہ نے ان کی طرف توجہ فرمائی کہ وہ توبہ کر لیں اس لئے کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اوراللہ نے ان تینوں پر بھی رحم کیا جو جہاد سے پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ زمین جب اپنی وسعتوں سمیت ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے دم پر بن گئی اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ا ب اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے تواللہ نے ان کی طرف توجہ فرمائی کہ وہ توبہ کرلیں اس لئے کہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرما دی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اﷲ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اﷲ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بیشک اﷲ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک (رض) کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو دو اونٹنیاں تھیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کردیا کہ وہ پوری پوری تیاری کرلیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آسکے۔ پس کوئی باز پرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔ ہاں اللہ کی وحی آجائے یہ تو بات ہی اور ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ اور خود حضور تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کرلوں لیکن ادھر ادھر شام ہوجاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کرلوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آگیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے میں نے کہا خیر دور ہوگئے اور کئی دن ہوگئے تو کیا میں تیز چل کر جا ملوں گا لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا آپ یہ درست نہیں فرما رہے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے شریف کے قریب آگئے تو میں دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہوگیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا۔ صاف صاف سچ سچ بات کہہ دونگا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسب عادت پہلے مسجد میں آئے دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے۔ اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والے آنے لگے اور عذر معذرت حیلے بہانے کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی سے کچھ اوپر اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد اللہ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لیے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصے کے ساتھ تبسم فرمایا اور مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کیسے رک گئے ؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج اگر جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہوگیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج میرے سچ کی بناء پر اگر آپ مجھے سے بگڑے تو ہوسکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچ تو یہ ہے کہ واللہ مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرست تھی اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تو سچا ہے۔ اچھا تم جاؤ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہوگا۔ میں کھڑا ہوگیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن عجب ہے کہ تم نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کردوں۔ پھر میں نے پوچھا کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔ میں نے کہا وہ کون کون ہیں انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہوگیا اور گھر چلا گیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہوگئے کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دو بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکان میں بیٹھ رہے باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبیعت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ ہاں مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کنکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کردیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت رکھتا ہوں ؟ اس نے خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت غمگین ہو کر پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار میں جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتادیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔ میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ ہم ہر طرح کی خدمت گذاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گذر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد میرے پاس آرہا ہے اس نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کردے ہاں حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کردیا کروں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔ انہوں نے کہا واللہ ان میں تو حرکت کی سکت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کرلو جتنی حضرت ہلال کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں ؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔ دس دن اس بات پر بھی گزر گئے اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک خوش ہوجا۔ واللہ میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آگئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آرہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آگئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت طلحہ بن عبداللہ (رض) کھڑے ہوگئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ حضرت کعب حضرت طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے (آیت لقد تاب اللہ) سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہوجاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا (آیت سیحلفون باللہ لکم الخ، ) یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کرلو۔ اچھا تم چشم پوشی کرلو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہوگا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہوجاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کرلی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔ اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑگیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ (آیت وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا) ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ موخر کردینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمد اللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے (رض) اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع (رض) ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو حضرت کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہوجاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔ مسند احمد میں ہے رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کرلو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو ؟ بقول حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سچوں سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بےرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔