Skip to main content

ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ يَّشَاۤءُ ۗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

ثُمَّ
پھر
يَتُوبُ
مہربان ہوتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
مِنۢ
بَعْدِ
بعد
ذَٰلِكَ
اس کے
عَلَىٰ
پر
مَن
جس
يَشَآءُۗ
وہ چاہتا ہے
وَٱللَّهُ
اور اللہ
غَفُورٌ
بخشنے والا
رَّحِيمٌ
مہربان ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

پھر اس کے بعد جسے الله چاہے تو بہ نصیب کرے گا اور الله بخشنے والا مہربان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالٰی اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا (١) اللہ ہی بخشش و مہربانی کرنے والا ہے۔

٢٧۔١ حُنَیْن مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ یہاں ھَوَاذِن اور ثَقِیْف رہتے تھے، یہ دونوں قبیلے تیر اندازی میں مشہور تھے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہے تھے جس کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا تو آپ ٢١ ہزار کا لشکر لے کر ان قبیلوں سے جنگ کے لئے حنین تشریف لے گئے، یہ فتح مکہ کے ١٨،١٩ دن بعد، شوال کا واقعہ ہے۔ مذکورہ قبیلوں نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی اور مختلف کمین گاہوں میں تیر اندازوں کو مقرر کر دیا تھا۔ ادھر مسلمانوں میں یہ عجب پیدا ہوگیا کہ آج کم از کم قلت کی وجہ سے ہم مغلوب نہیں ہونگے۔ یعنی اللہ کی مدد کے بجائے اپنی کثرت تعداد پر اعتماد زیادہ ہوگیا۔ اللہ تعالٰی کو یہ عجب کا کلمہ پسند نہیں آیا جب ہوازن کے تیر اندازوں نے مختلف کمین گاہوں سے مسلمانوں کے لشکر پر یک بارگی تیر اندازی کی تو اس غیر متوقع اور اچانک تیروں کی بچھاڑ سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ میدان میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سو کے قریب مسلمان رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو پکار رہے تھے ' اللہ کے بندو! میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں ' کبھی یہ رجزیہ کلمہ پڑھتے اَنَا النَّبِیّْ لَا کَذ ِبْ۔ اَنَا ابنُ عَبْدِ الْمُظَّلِبْ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو (جو نہایت بلند آواز تھے) حکم دیا کہ مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے آوازیں دیں۔ چنانچہ ان کی ندا سن کر مسلمان سخت پشیمان ہوئے اور دوبارہ میدان میں آگئے اور پھر اس طرح جم کر لڑے کہ اللہ نے فتح عطا فرمائی، اللہ تعالٰی کی مدد بھی حاصل ہوئی، جس سے ان کے دلوں سے دشمن کا خوف دور ہو گیا، دوسرے فرشتوں کا نزول ہوا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے چھ ہزار کافروں کو قیدی بنایا (جنہیں بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر چھوڑ دیا گیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا، جنگ کے بعد ان کے بہت سے سردار بھی مسلمان ہوگئے یہاں ٣ آیت میں اللہ تعالٰی نے اس واقعے کا مختصر ذکر فرمایا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا اللہ ہی بخشش ومہربانی کرنے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اس کے بعد اللہ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے (اور اسے توفیقِ توبہ دیتا ہے) اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس کے بعد خدا جس کی چاہے گا توبہ قبول کرلے گا وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر اللہ اس کے بعد بھی جس کی چاہتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے (یعنی اسے توفیقِ اسلام اور توجہِ رحمت سے نوازتا ہے)، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،