Skip to main content

اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۗ اِنَّهُمْ سَاۤءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ

ٱشْتَرَوْا۟
انہوں نے بیچ ڈالا
بِـَٔايَٰتِ
آیات کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
ثَمَنًا
قیمت کے عوض
قَلِيلًا
تھوڑی
فَصَدُّوا۟
پھر انہوں نے روکا
عَن
سے
سَبِيلِهِۦٓۚ
اس کے راستے (سے)
إِنَّهُمْ
بیشک وہ
سَآءَ
کتنا برا ہے
مَا
جو
كَانُوا۟
بھی
يَعْمَلُونَ
وہ عمل کر رہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہو گئے بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہو گئے بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ کی آیتوں کے بدلے تھو ڑے دام مول لیے تو اس کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی بڑے کام کرتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

انہوں نے الله کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا پھر الله کے راستے سے روکتے ہیں بے شک وہ برا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راہ سے روکا بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو خدا کے رستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راه سے روکا۔ بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر آیاتِ الٰہی فروخت کر دی ہیں اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکنے لگے۔ بہت ہی برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

انہوں نے آیات هالٰہیہ کے بدلے بہت تھوڑی منفعت کو لے لیا ہے اور اب راہ هخدا سے روک رہے ہیں -یہ بہت برا کام کررہے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

انہوں نے آیاتِ الٰہی کے بدلے (دنیوی مفاد کی) تھوڑی سی قیمت حاصل کر لی پھر اس (کے دین) کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے لگے، بیشک بہت ہی برا کام ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

جہاد ہی راہ اصلاح ہے
مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکواتی بن جائیں تو تم ان کے رستے چھوڑ دو اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ امام بزار (رح) فرماتے ہیں کہ میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس (رح) کا ہے واللہ اعلم۔