یوسف آية ۳۰
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنْ نَّـفْسِهٖۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۗ اِنَّا لَـنَرٰٮهَا فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ
طاہر القادری:
اور شہر میں (اُمراء کی) کچھ عورتوں نے کہنا (شروع) کر دیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس سے مطلب براری کے لئے پھسلاتی ہے، اس (غلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، بیشک ہم اسے کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں،
English Sahih:
And women in the city said, "The wife of al-Azeez is seeking to seduce her slave boy; he has impassioned her with love. Indeed, we see her [to be] in clear error."
1 Abul A'ala Maududi
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے"
2 Ahmed Raza Khan
اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہ ے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں
3 Ahmed Ali
اورعوتوں نے شہر میں چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے بے شک اس کی محبت میں فریفتہ ہوگئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتے ہیں
4 Ahsanul Bayan
اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وہ صریح گمراہی میں ہے (١)۔
٣٠۔١ جس طرح خوشبو کو پردوں سے چھپا یا نہیں جا سکتا ، عشق و محبت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ گو عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اسے نظر انداز کرنے کی تلقین کی اور یقیناً آپ کی زبان مبارک پر اس کا کبھی ذکر بھی نہیں آیا ہوگا اس کے باوجود یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور زنان مصر میں اس کا چرچا عام ہو گیا، عورتیں تعجب کرنے لگیں کی عشق کرنا تھا تو کسی پیکر حسن و جمال سے کیا جاتا، یہ کیا اپنے ہی غلام پر زلیخا فریفتہ ہو گئی، یہ تو اس کی ہی نادانی ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
6 Muhammad Junagarhi
اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وه صریح گمراہی میں ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
پھر (جب اس واقعہ کا چرچا ہوا تو) شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان پر اپنی مطلب براری کے لئے ڈورے ڈال رہی ہے اس کی محبت اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی میں مبتلا دیکھتی ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور پھر شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کردیا کہ عزیز مصر کی عورت اپنے جوان کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور اسے اس کی محبت نے مدہوش بنادیا تھا ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ عورت بالکل ہی کھلی ہوئی گمراہی میں ہے
9 Tafsir Jalalayn
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔
آیت نمبر ٣٠ تا ٣٥
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دیدی اور یوسف سے کہہ دیا کہ ذرا ان کے سامنے نکل آؤ چناچہ جب ان کی نظر یوسف پر پڑی تو دنگ رہ گئیں اور چھری سے اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور ان کے دلوں کے یوسف کے ساتھ مشغول ہونے کی وجہ سے ان کو تکلیف کا احساس بھی نہ ہوا اور پکار اٹھیں حاشا اللہ پاکی اللہ کیلئے ہے، یہ یعنی یوسف انسان نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس لئے کہ اس کو ایسے حسن نے گھیر لیا ہے کہ عادۃً کسی فرد بشر میں نہیں ہوتا، اور صحیح حدیث میں ہے کہ (حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مجموعی) حسن کا نصف حصہ عطا کیا گیا تھا، عزیز کی بیوی نے جب ان کی حالت غیر دیکھی تو کہا یہی تو ہے وہ جس کی محبت کے بارے میں تم مجھ کو طعنے دیتی تھیں، یہ اپنے عذر کا بیان ہے، اور بیشک میں نے اس کو رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا، اور اگر یہ وہ کام نہیں کرے گا جو اس سے میں چاہتی ہوں تو یقیناً قید کیا جائیگا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا، تو ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا اپنی مالکن کی بات مان لے، یوسف (علیہ السلام) نے دعاء کی اے میرے پروردگار مجھے جیل منظور ہے اس کام کے مقابلہ میں جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہے اور اگر تو نے مجھ سے ان کی حال بازیوں کو دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤنگا، اور گنہگاروں میں شامل ہوجاؤں گا اور (الاتصرف) سے مقصد دعاء ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فاستجاب فرمایا تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی کہ اس سے ان کے مکر کو دفع کردیا بلاشبہ وہ باتوں کا سننے والا عمل کا دیکھنے والا ہے پھر اس نے یہ طے کیا کہ اس کو واللہ جیل میں ڈالدیں گے ایک مدت کیلئے باوجود یکہ وہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی پر دلالت کرنے والی نشانیاں دیکھ چکے تھے، اس (حذف فاعل) پر لیسجننہ دلالت کر رہا ہے تاکہ اس بات کا چرچا ختم ہوجائے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : نسوۃ عورتوں کی جماعت، یہ اسم جمع ہے اس کا لفظوں میں واحد نہیں ہے اور باعتبار معنی کے امرأۃ اس کا واحد ہے نسوہ مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے فعل کا مذکر اور مؤنث دونوں لانا جائز ہے اسی وجہ سے قالت کے بجائے قال لائے ہیں۔
قولہ : مدینۃ مصر، اس میں اشارہ ہے کہ المدینۃ میں الف لام عہد کا ہے۔
قولہ : امرأۃ العزیز مبتداء ہے اور تراود، اسکی خبر ہے، تراود مضارع واحد مؤنث غائب ہے (مفاعلۃ) وہ بہلاتی ہے وہ پھسلاتی ہے
قولہ : تمییز یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ شغف متعدی بیک مفعول ہے حالانکہ یہاں اسکے دو مفعول میں اول ھا اور دوسرے حباً ، جواب یہ ہے کہ حباً تمییز ہے نہ کہ مفعول، یہ فاعل سے منتقل ہو کر آتی ہے اصل عبارت یہ تھی دخل حبہ فی سغاف قلبھا۔
قولہ : شغاف، شغاف القلب، وہ جھلی جو قلب کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔
قولہ : اعتدت یہ اعتاد سے بمعنی تیار کرنا ماضی واحد مؤنث غائب۔
قولہ : متکأ اسم مکان ٹیک لگانے کی جگہ، گاؤ تکیہ، مسند، عرب مُتکأً اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کھانے پینے یا باتیں کرنے کے وقت سہارا لگایا جاتا ہے امام رازی نے کہا ہے کہ وہ کھانا جس کو کھانے کیلئے چھری کی ضرورت پڑے، (تفسیر کبیر) جس طرح آجکل میز لگانے اور دستر خوان لگانے سے مراد کھانا چننا اور میز یا دستر خوان پر بیٹھنے سے مراد ہوتا ہے کھانے کیلئے بیٹھنا، اسی طرح اس زمانہ میں گاؤ تکیہ لگانے سے مراد کھانا کھانے کیلئے بیٹھنا ہوتا تھا، اسی معنی میں جمیل کا شعر ہے ؎
فَظَلِلْنَا بِنِعْمَۃٍ وَاتَّکَأْنَا وَشَرِبْنَا الْحَلَالَ مِنْ قُلَلِہٖ
” ہم نے عیش میں دن گزارا اور کھانا کھایا، اور مٹکوں سے نکال کر شراب پی “
علامہ سیوطی نے متکأً کی تفسیر طعاما یقطع بالسکین سے کی ہے، اور یہی قول امام رازی کا ہے، لیکن اس کے بعد لکھا ہے وھو الاترج (ترنج) علامہ سیوطی نے ایسا وہب کی اتباع میں کیا ہے ابو عبیدہ اور دیگر اہل لغت نے اس کا انکار کیا ہے، اسلئے کہ ترنج کو مُتْک یا مُتکۃ کہا جاتا ہے ضرار بن نہشل نے بھی متکۃ بمعنی ترنج استعمال کیا ہے، فاھدت متکۃ لبنی أبیھا، اس نے اپنے چچا زاد بھائیوں کیلئے ترنج ہدیہ میں بھیجے۔ (لغات القرآن)
قولہ : للاتکاء یہ کھانے کو متکأ کہنے کی وجہ سے تسمیہ ہے چونکہ عرب کھانے کے وقت ٹیک لگایا کرتے تھے اسی مناسبت سے اس کھانے ہی کو استعارہ کے طور پر متکأ کہہ دیا گیا ہے۔
قولہ : حاش للہ، خاشا حرف تنزیہ ہے اس وقت یہ اسم ہوگا اور اس کا استعمال استثناء کے طور پر ہوتا ہے اس وقت حرف ہوگا۔
قولہ : بیان لعذرھا، یہ اس کا جواب ہے کہ مصری عورتوں کو تو معلوم تھا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام پر فریفتہ ہوگئی ہے پھر فذالکن الذی لمتننی فیہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس کا مقصد خبر دینا نہیں ہے بلکہ اپنی مجبوری اور لاچاری کو بیان کرنا ہے کہ جس کو تم ایک نظر دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ زخمی کر بیٹھیں تو تم خود ہی بتاؤ کہ جب وہ ہر وقت میرے ساتھ میرے گھر میں رہتا ہے تو میرا کیا حال ہوگا ؟ لہٰذا تم مجھے اس معاملہ میں معذور سمجھو۔
قولہ : بہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ آمرہٗ کی ضمیر بظاہر یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اگر ایسا ہے تو ما موصولہ بغیر عائد کے رہ جائیگا۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ آمرہٗ کی ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف نہیں بلکہ ما موصولہ کی طرف راجع ہے اور آمرہٗ اصل میں آمربہ تھا باء کو حذف کردیا جیسا کہ امرتک الخیر اصل میں امرتک بالخیر تھا۔
قولہ : لھم، ای للعزیز واھلہ۔
قولہ : ان یسجنوہ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ ہے کہ بدا فعل ہے اس کا فاعل لیسجننہ ہے حالانکہ فعل بغیر فاعل کے واقع نہیں ہوا کرتا لہٰذا فاعل کے رہ گیا جو کہ جائز نہیں ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ بدا کا فاعل لیسجننہ نہیں ہے بلکہ فاعل مقدر ہے اور وہ ان یسجنوہ ہے ان یسجنوہ، أن مصدریہ کی وجہ سے بتاویل مصدر ہو کر بدا کا فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے بدا تسجینہٗ ۔
تفسیر و تشریح
وقال نسوۃ عزیز مصر نے اگرچہ فضیحت و رسوائی سے بچنے کیلئے اس معاملہ کو یہیں ختم کردیا مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی، اور شدہ شدہ شاہی خاندانوں کی عورتوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر بےحیا ہے کہ اپنے غلام پر ریجھ گئی، اتنے بڑے مرتبہ کی عورت اور غلام سے اختلاط کا ارادہ ؟ آہستہ آہستہ اس طعن وتشنیع کی خبر عزیز کی بیوی تک بھی پہنچ گئی، اس کو یہ طعن بیحد شاق گزرا، اور اس نے چاہا کہ اس کا انتقام لے، اور ایسا انتقام لے کہ جس بات پر وہ مجھ پر طعن کرتی ہیں اسی میں ان کو مبتلا کیا جائے یہ سوچ کر ایک روز شاہی خاندان اور عمائدین شہر کی عورتوں کے کھانے کی دعوت دی اور جب کھانا کھانے کیلئے دستر خوان پر بیٹھ گے ئیں اور سب نے ترنج یا گوشت وغیرہ کاٹنے کیلئے چھریاں ہاتھ میں لے لیں تب عزیز کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ باہر آئیں حضرت یوسف (علیہ السلام) مالکہ کے حکم سے باہر نکلے تو تمام عورتیں جمال یوسف کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور رخ انور کی تجلی و تابانی سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ چیزیں کاٹنے کے بجائے بیخودی میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بےساختہ کہنے لگیں کہ کون کہتا ہے یہ انسان ہے ؟ بخدا یہ تو نور کا پتلا اور بزرگ فرشتہ ہے یہ دیکھ کر عزیز کی بیوی بیحد محفوظ ہوئی اپنی کامیابی اور ان کی شکست پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگی یہی تو وہ غلام ہے جس کے عزق و محبت کے بارے میں تم نے مجھ کو مطعون کر رکھا ہے، اب اس کو دیکھ کر خود تمہارا حال کیا ہے ؟ اب تم خود ہی بتاؤ میرا یہ عشق بجا ہے یا بےجا، اور تمہاری ملامت برمحل ہے یا بےمحل ؟
مصری عورتوں کی یہ مدہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہوگیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب درکنار کرکے اس نے اپنے برے ارادہ کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا، اور یہ بھی کہا کہ بیشک میں نے اس کا دل اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ قابو میں نہ ہوا، مگر یہ کہے دیتی ہوں اگر اس نے میرا کہنا نہ مانا تو اس کو جیل جانا پڑے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔
قال رب السجن احب الی الخ ذرا ان حالات کا اندازہ کیجئے جن حالات میں یوسف مبتلا تھے، انیس بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان ہے جو بدویانہ زندگی سے بہترین تندرستی اور بھری جوانی لے کر آیا ہے جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد قدرت اسے رئیس اور رکن سلطنت کے گھر لے آئی ہے، یہاں پہلے تو خود گھر کی بیگم ہی اس کے پیچھے پڑجاتی ہے جس سے اس کا شب و روز کا سابقہ ہے پھر اس کے حسن کا چرچا پورے دار السلطنت میں ہونے لگتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں اس پر فریفتہ ہوجاتی ہیں، اب ایک طرف وہ اور دوسری طرف سینکڑوں خوبصورت جال ہیں جو ہر وقت ہر جگہ اسے پھانسنے کیلئے پھیلے ہوئے ہیں، اس حالت میں یہ خدا پرست نوجوان جس کامیابی کے ساتھ ان شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرتا ہے وہ بجائے خود کچھ کم قابل تعریف نہیں ہے مگر اس پر بھی وہ اپنی بشری کمزوریوں کا خیال کرکے کانپ اٹھتا ہے اور نہایت عاجزی کے ساتھ خدا سے دل ہی دل میں مدد کی التجا کرتا ہے کہ اے رب میں ایک کمزور انسان ہوں میرا اتنا بل بوتاکہاں کہ ان بےپناہ ترغیبات کا مقابلہ کرسکوں تو مجھے سہارا دے اور مجھے اپنی پناہ رکھ، ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے قدم نہ پھسل جائیں۔
یوسف (علیہ السلام) زندان میں : بہرحال یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ بھیج دیا گیا اور ایک بےخطا کو خطا وار، معصوم کو مجرم بنادیا گیا تاکہ بیوی فضیحت و رسوائی سے بچ جائے اور مجرم کو کوئی مجرم نہ کہہ سکے عزیز مصر اور اس کے دوستوں کو اگرچہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کی کھلی نشانیاں ایکھ کر یقین ہوگیا تھا مگر شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا اس کو ختم کرنے کیلئے مصلحت اسی میں نظر آئی کی کچھ عرصہ کیلئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیج دیا جائے اور یہ مصلحت بھی پیش نظر ہوسکتی ہے کہ اس بہانے سے یوسف کو اپنی بیوی سے الگ کردیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اس قسم کی حرکت نہ کرسکے۔
10 Tafsir as-Saadi
یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں :﴿ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾” عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہوگیا ہے“ یہ کام بہت برا ہے یہ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی ہے جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس کے باوجود اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی﴿قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ” اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔“ یعنی یوسف کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾’’یقیناً ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتی ہیں۔“ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔ ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ کہہ کر جناب یوسف تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑگئی۔۔۔ تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لئے یوسف کا دیدار کروا دے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur shehar mein kuch aurten yeh baaten kernay lagen kay : aziz ki biwi apney nojawan ghulam ko warghala rahi hai . iss nojawan ki mohabbat ney ussay fareefta kerliya hai . humaray khayal mein to yaqeeni tor per woh khuli gumrahi mein mubtala hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
داستان عشق اور حسینان مصر
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا
عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔
اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ \0\01 مسلمان عادل بادشاہ \0\02 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری \0\03 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے \0\04 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں \0\05 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی \0\06 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں \0\07 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔