انہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ (پیالہ) برآمد ہو وہ خود ہی اس کا بدلہ ہے (یعنی اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے)، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،
English Sahih:
[The brothers] said, "Its recompense is that he in whose bag it is found – he [himself] will be its recompense. Thus do we recompense the wrongdoers."
1 Abul A'ala Maududi
اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے"
2 Ahmed Raza Khan
بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے
3 Ahmed Ali
انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کےاسباب میں سے پایا جائے پس وہی اس کے بدلہ میں جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں
4 Ahsanul Bayan
جواب دیا اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے (١) ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں (٢)۔
٧٥۔١ یعنی چور کو کچھ عرصے کے لئے اس شخص کے سپرد کر دیا جاتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہوتی تھی۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں سزا تھی، جس کے مطابق یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے یہ سزا تجویز کی۔ ٧٥۔٢ یہ قول بھی برادران یوسف علیہ السلام ہی کا ہے، بعض کے نزدیک یہ یوسف علیہ السلام کے مصاحبین کا قول ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ لیکن آیت کا اگلا ٹکڑا کہ ' بادشاہ کے دین میں وہ اپنے بھائی کو پکڑ نہ سکتے تھے ' اس قول کی نفی کرتا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
6 Muhammad Junagarhi
جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ﻇالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان سے مل جائے وہ خود ہی اس کی سزا ہے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ان لوگوں نے کہا کہ اس کی سزا خود وہ شخص ہے جس کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزادیتے ہیں
9 Tafsir Jalalayn
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔
10 Tafsir as-Saadi
﴿قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ ﴾ ” انہوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی‘‘ یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا ﴿جَزَاؤُهُ﴾ ” اس کی جزا ہے۔“ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا ہے، اسی لئے انہوں نے کہا : ﴿كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ﴾ ” ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “
11 Mufti Taqi Usmani
unhon ney kaha : uss ki saza yeh hai kay jiss kay kajaway mein say woh ( piyala ) mil jaye , woh khud saza mein dhar liya jaye . jo log zulm kertay hain , hum unn ko aesi hi saza diya kertay hain .