Skip to main content

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِىْۤ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ

وَمَآ
اور نہیں
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
مِن
سے
قَبْلِكَ
آپ سے پہلے
إِلَّا
مگر
رِجَالًا
مردوں کو
نُّوحِىٓ
ہم وحی کرتے ہیں
إِلَيْهِمْۚ
ان کی طرف
فَسْـَٔلُوٓا۟
پس پوچھ لو
أَهْلَ
اہل
ٱلذِّكْرِ
علم سے
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
لَا
نہیں
تَعْلَمُونَ
جانتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جن کی طرف ہم وحی کرتے، تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں، ف۹۰)

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے تجھ سے پہلے بھی تو انسان ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ سے پہلے بھی ہم مردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو (١)۔

٤٣۔١ اَ ھْلُ الذِّکْر سے مراد اہل کتاب ہیں جو پچھلے انبیاء اور ان کی تاریخ سے واقف تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے، وہ انسان ہی تھے اس لئے محمد رسول اللہ بھی اگر انسان ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں کہ تم ان کی بشریت کی وجہ سے ان کی رسالت کا انکار کر دو۔ اگر تمہیں شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء بشر تھے یا ملائکہ؟ اگر وہ فرشتے تھے تو پھر بیشک انکار کر دینا، اگر وہ بھی انسان ہی تھے تو پھر محمد رسول اللہ کی رسالت کا محض بشریت کی وجہ سے انکار کیوں؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ سے پہلے بھی ہم مَردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول) ہم نے آپ سے پہلے مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا، کھلی ہوئی دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھ لو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مذِدوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان کی طرف بھی وحی کرتے رہے ہیں تو ان سے کہئے کہ اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

انسان اور منصب رسالت پر اختلا ف
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ فرماتا ہے آیت (اکان للناس عجبا) الخ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے۔ اور آیت میں من اھل القری کا لفظ بھی فرمایا یعنی وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آسمان کی مخلوق نہ تھے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔ مجاہد (رح) اور اعمش (رح) کا قول بھی یہی ہے عبدالرحمن (رح) فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے آیت ( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۝) 15 ۔ الحجر ;9) میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہوسکتی تھی ؟ اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی ابن عباس، حسن، حسین، محمد بن حنفیہ، علی بن حیسن زین العابدین، علی بن اللہ بن عباس ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر اور ان جیسے اور بزرگ حضرات۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں اور آپ سے پہلے بھی انبیاء بنی آ دم میں سے ہوتے رہے۔ جیسے فرمان ہے آیت ( قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93؀ ) 17 ۔ الإسراء ;93) کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے۔ اور آیت میں ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے۔ اور آیت میں ہے ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت ( قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ) 46 ۔ الأحقاف ;9) میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں ؟ ایک اور آیت میں ہے میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے الخ پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان ؟
پھر یہاں فرماتا ہے کہ رسول کو وہ دلیلیل دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے۔ زبر سے مراد کتابیں ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے آیت ( وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54 ۔ القمر ;52) جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے۔ اور آیت میں ہے (لقد کتبنا فی الزبور) ہم نے زبور میں لکھ دیا الخ پھر فرماتا ہے ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا یعنی قرآن اس لئے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لئے کہ آپ افضل الخلائق ہیں۔ اولاد آدم کے سردار ہیں۔ جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوجیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔