Skip to main content

اَفَاَصْفٰٮكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَـنِيْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۤٮِٕكَةِ اِنَاثًا ۗ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا

أَفَأَصْفَىٰكُمْ
کیا بھلا چن لیا تم کو
رَبُّكُم
تمہارے رب نے
بِٱلْبَنِينَ
بیٹوں کے ساتھ
وَٱتَّخَذَ
اور بنالیں
مِنَ
سے
ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ
فرشتوں میں (سے)
إِنَٰثًاۚ
لڑکیاں
إِنَّكُمْ
یقیناً تم
لَتَقُولُونَ
البتہ تم کہتے ہو
قَوْلًا
بات
عَظِيمًا
بہت بڑی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹے چن دیے اور اپنے لیے فرشتوں سے بیٹیاں بنائیں بیشک تم بڑا بول بولتے ہو

احمد علی Ahmed Ali

کیا تمہارے رب نے تمہیں چن کر بیٹے دے دیئے اور اپنے لئےفرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا تم بڑی بات کہتے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بیشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تمہارے پروردگار نے تمہیں تو بیٹوں کے لئے منتخب کر لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا؟ اس میں شک نہیں ہے کہ تم بڑی سخت بات کہتے ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تمہارے پروردگار نے تم لوگوں کے لئے لڑکوں کو پسند کیا ہے اور اپنے لئے ملائکہ میں سے لڑکیاں بنائی ہیں یہ تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے مشرکو! خود سوچو!) بھلا تمہیں تو تمہارے رب نے بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور (اپنے لئے) اس نے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے، بیشک تم (اپنے ہی گھڑے ہوئے خیالات کے پیمانہ پر) بڑی سخت بات کہتے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مجرمانہ سوچ پر تبصرہ
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو۔ بلکہ زندہ درگور کردو انہیں اللہ کے لئے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتا انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہوجائے، پہاڑ چورا چورا ہوجائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے۔