کیا کافر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کار ساز بنا لیں گے، بیشک ہم نے کافروں کے لئے جہنم کی میزبانی کو تیار کر رکھا ہے،
English Sahih:
Then do those who disbelieve think that they can take My servants instead of Me as allies? Indeed, We have prepared Hell for the disbelievers as a lodging.
1 Abul A'ala Maududi
تو کیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے
2 Ahmed Raza Khan
تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
3 Ahmed Ali
پھر کافر کیا خیال کرتے ہیں کہ میرے سوا میرےبندوں کو اپنا کارساز بنا لیں گے بے شک ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کو مہمانی بنایاہے
4 Ahsanul Bayan
کیا کافر یہ خیال کئے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وہ میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنالیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے (١)
١٠٢۔١ حسب، بمعنی ظن ہے اور عبادی (میرے بندوں) سے مراد ملائکہ، مسیح علیہ السلام اور دیگر صالحین ہیں، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح شیاطین و جنات ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے اور استفہام زجر وتوبیخ کے لیے ہے۔ یعنی غیر اللہ کے یہ پجاری کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر اور میرے بندوں کی عبادت کر کے ان کی حمایت سے میرے عذاب سے بچ جائیں گے؟ یہ ناممکن ہے، ہم نے تو ان کافروں کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں جانے سے ان کو وہ بندے نہیں روک سکیں گے جن کی یہ عبادت کرتے اور ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے
6 Muhammad Junagarhi
کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
کیا کافروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز اور سرپرست بنا لیں گے۱ (اور ہم باز پرس نہیں کریں گے) بےشک ہم نے دوزخ کو کافروں کی مہمانی کیلئے تیار کر رکھا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
تو کیا کافروں کا خیال یہ ہے کہ یہ ہمیں چھوڑ کر ہمارے بندوں کو اپنا سرپرست بنالیں گے تو ہم نے جہنمّ کو کافرین کے لئے بطور منزل مہیّا کردیا ہے
9 Tafsir Jalalayn
کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے
10 Tafsir as-Saadi
یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنہوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے۔۔۔. فرماتا ہے : ﴿أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ ﴾ ” کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست“ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَـٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ﴾ )سبا:34؍40۔41 ( ” جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمہاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے، تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔ “ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جب کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے۔۔۔. ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان نہیں۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴾ (بنی اسرائیل : 17؍56) ” کہہ دیجئے کہ تم پکاردیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کار ساز سمجھتے ہو، تو (یاد رکھو) وہ تمہاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ (الزخرف : 43؍86)” وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔“ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہوگی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ ﴿إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا﴾ ” بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لئے۔“ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے !
11 Mufti Taqi Usmani
jinn logon ney kufr apna liya hai , kiya woh phir bhi yeh samajhtay hain kay mujhay chorr ker meray hi bandon ko apna rakhwala bana len gay-? yaqeen rakho kay hum ney aesay kafiron ki mehmani kay liye dozakh tayyar ker rakhi hai .