پھر ہم نے انہیں اٹھا دیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون اس (مدّت) کو صحیح شمار کرنے والا ہے جو وہ (غار میں) ٹھہرے رہے،
English Sahih:
Then We awakened them that We might show which of the two factions was most precise in calculating what [extent] they had remained in time.
1 Abul A'ala Maududi
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے
2 Ahmed Raza Khan
پھر ہم نے انھیں جگایا کہ دیکھیں دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے،
3 Ahmed Ali
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ دونوں جماعتوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے
4 Ahsanul Bayan
پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کرلیں کہ دونوں گروہ میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیادہ (١) یاد رکھا
١٢۔١ ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
پھر ان کو جگا اُٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے
6 Muhammad Junagarhi
پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کرلیں کہ دونوں گروه میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیاده یاد رکھی ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
پھر ہم نے انہیں اٹھایا۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون اپنے ٹھہرنے کی مدت کا زیادہ ٹھیک شمار کر سکتا ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
پھر ہم نے انہیں دوبارہ اٹھایا تاکہ یہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں اپنے ٹھہرنے کی مدّت کسے زیادہ معلوم ہے
9 Tafsir Jalalayn
پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
﴿ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ﴾ ” پھر ہم نے ان کو اٹھایا“ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا﴾ ” تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے“ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَكَذٰلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ ﴾ (الکھف :18؍19)” اور اس طرح ہم نے انہیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں“ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں۔۔۔ اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
11 Mufti Taqi Usmani
phir hum ney unn ko jagaya takay yeh dekhen kay unn kay do girohon mein say kon saa giroh apney soye rehney ki mauddat ka ziyada sahih shumar kerta hai .