Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۤءَهُمْۗ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَـقَّ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ جو
ءَاتَيْنَٰهُمُ
دی ہم نے انہیں
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
يَعْرِفُونَهُۥ
وہ پہچانتے ہیں اسے
كَمَا
جیسا کہ
يَعْرِفُونَ
وہ پہچانتے ہیں
أَبْنَآءَهُمْۖ
اپنے بیٹوں کو
وَإِنَّ
اور بےشک
فَرِيقًا
ایک گروہ (کے لوگ)
مِّنْهُمْ
ان میں سے
لَيَكْتُمُونَ
البتہ وہ چھپاتے ہیں
ٱلْحَقَّ
حق کو
وَهُمْ
حالانکہ وہ
يَعْلَمُونَ
وہ جانتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -

احمد علی Ahmed Ali

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بےشک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جنہیں ہم نے کتاب دی وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے (١)۔

١٤٦۔١ یہاں اہل کتاب کے ایک فریق کو حق کے چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ایک فریق عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں کا بھی جو اپنے صدق و صفائے باطنی کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات وغیرہ) دی ہے وہ اس (رسول(ص)) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (مگر اس کے باوجود) ان کا ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپا رہا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ رسول کو بھی اپنی اولاد کی طرح پہچانتے ہیں. بس ان کا ایک گروہ ہے جو حق کو دیدہ و دانستہ چھپا رہا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس رسول (آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی شان و عظمت) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ بلاشبہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور یقیناً انہی میں سے ایک طبقہ حق کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء
ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت " عرب " دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے ؟ اس نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی گواہ رہیئے آپ نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ قرطبی کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے حضرت عبداللہ بن سلام سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لئے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ کی صحیح تعریف بتادی یعنی حضرت جبرائیل حضرت عیسیٰ کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا ؟ ہم آپ کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں ؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ کی نبوت میں کچھ شک نہیں، غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ کو جان جاتا ہے