Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

وَلَٮِٕنْ اَ تَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَۚ وَمَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْۚ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍۗ وَلَٮِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۤءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۤءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَۘ

وَلَئِنْ
اور البتہ اگر
أَتَيْتَ
لائیں آپ (ان کے پاس)
ٱلَّذِينَ
وہ جو
أُوتُوا۟
دیئے گئے
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
بِكُلِّ
ہر
ءَايَةٍ
نشانی
مَّا
نہیں
تَبِعُوا۟
وہ پیروی کریں گے
قِبْلَتَكَۚ
آپ کے قبلے کی
وَمَآ
اور نہیں
أَنتَ
آپ
بِتَابِعٍ
پیروی کرنے والے
قِبْلَتَهُمْۚ
ان کے قبلے کی
وَمَا
اور نہ
بَعْضُهُم
بعض ان کا
بِتَابِعٍ
پیروی کرنے والا ہے
قِبْلَةَ
قبلہ کی
بَعْضٍۚ
بعض کے
وَلَئِنِ
اور البتہ اگر
ٱتَّبَعْتَ
پیروی کی آپ نے
أَهْوَآءَهُم
ان کی خواہشات کی
مِّنۢ
سے
بَعْدِ
بعد اس کے
مَا
جو
جَآءَكَ
آ گیا آپ کے پاس
مِنَ
سے
ٱلْعِلْمِۙ
علم میں
إِنَّكَ
بےشک آپ
إِذًا
تب
لَّمِنَ
ضرور
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں میں سے ہوں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، او ر اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، او ر اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر آپ ان کے سامنے تمام دلیلیں لے آئيں جنہیں کتاب دی گئی تو بھی وہ آپ کے قبلے کو نہیں مانیں گے اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کو ماننے والے ہیں اور نہ ان میں کوئی دوسرے قبلہ کو ماننے والا ہے اور اگر آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا تو بے شک آپ بھی تب ظالموں میں سے ہوں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے (١) اور نہ آپ کے قبلے کو ماننے والے ہیں (٢) اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں (٣) اور اگر آپ باوجود کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ظالموں میں ہوجائیں گے (٤)۔

١٤٥۔١ کیونکہ یہود کی مخالفت تو حسد و عناد کی بنا پر ہے، اس لئے دلائل کا ان پر کوئی اثر نہ ہو گا۔ گویا اثر پزیری کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا دل صاف ہو۔
١٤٥۔٢ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الٰہی کے پابند ہیں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے ایسا حکم نہ ملے آپ ان کے قبلے کو کیونکر اختیار کر سکتے ہیں۔
١٤٥۔٣ یہود کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ جب اہل کتاب کے یہ دو گروہ بھی ایک قبلے پر متفق نہیں تو مسلمانوں سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ان کی موافقت کریں گے۔
١٤٥۔٤ یہ وعید پہلے بھی گزر چکی ہے، مقصد امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن و حدیث کے علم کے باوجود اہل بدعت کے پیچھے لگنا،ظلم اور گمراہی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اگر آپ اہل کتاب کے سامنے سارے معجزے (دنیا جہان کے سارے دلائل) پیش کر دیں۔ تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ ہی آپ ان کے قبلہ کی پیروی کریں گے۔ اور وہ خود بھی ایک دوسرے کے قبلہ کو نہ مانتے ہیں اور نہ پیروی کرتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو (منجانب اللہ) تمہارے پاس آچکا ہے اگر ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروگے تو تمہارا شمار ظالموں (حد سے تجاوز کرنے والوں) میں ہو جائے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اگر آپ ان اہلِ کتاب کے پاس تمام آیتیں بھی پیش کردیں کہ یہ آپ کے قبلہ کو مان لیں تو ہرگز نہ مانیں گے اور آپ بھی ان کے قبلہ کو نہ مانیں گے اور یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کو نہیں مانتے اور علم کے آجانے کے بعد اگر آپ ان کی خواہشات کا اتباع کرلیں گے تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوجائے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اوراگر آپ اہلِ کتاب کے پاس ہر ایک نشانی (بھی) لے آئیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا:) اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے (بھی) اپنے پاس علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو بیشک آپ (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کفر وعناد زدہ یہودی
یہودیوں کے کفر وعناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت (ان الذین حقت علیھم کلمتہ ربک لا یومنون ولو جاء تھم کل ایت حتی یروا العذاب الالیم) یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آجائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں پھر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے نہیں کہ ان کی باتوں میں آجائیں اور ان کی راہ چل پڑیں وہ ہمارے تابع فرمان ہیں اور ہماری مرضی کے عامل ہیں وہ ان کی باطل خواہش کی تابعداری ہرگز نہیں کریں گے نہ ان سے یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارا حکم آجانے کے بعد ان کے قبلہ کی طرف توجہ کریں پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے در اصل علماء کو دھمکایا گیا کہ حق کے واضح ہوجانے کے بعد کسی کے پیچھے لگ جانا اور اپنی یا دوسروں کی خواہش پرستی کرنا یہ صریح ظلم ہے۔