Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَاۤءُ مِنْ عِبَادِهٖۚ فَبَاۤءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍۗ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ

بِئْسَمَا
کتنا برا ہے جو
اشْتَرَوْا
بیچ ڈالا انہوں نے
بِهٖٓ
بدلے اس کے
اَنْفُسَھُمْ
اپنے نفسوں کو
اَنْ
یہ کہ
يَّكْفُرُوْا
انہوں نے کفر کیا
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
اَنْزَلَ
نازل کیا
اللّٰهُ
اللہ نے
بَغْيًا
ضد ( کیوجہ سے)
اَنْ
یہ کہ
يُّنَزِّلَ
نازل کرتا ہے
اللّٰهُ
اللہ
مِنْ فَضْلِهٖ
اپنے فضل سے
عَلٰي
اوپر
مَنْ
جس کے
يَّشَاۗءُ
وہ چاہتا ہے
مِنْ
سے
عِبَادِهٖ
اپنے بندوں میں سے
فَبَاۗءُوْ
تو وہ لوٹے / چلے آئے
بِغَضَبٍ
ساتھ غضب کے
عَلٰي
اوپر
غَضَبٍ
غضب کے
وَ
اور
لِلْكٰفِرِيْنَ
کافروں کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
مُّهِيْنٌ
سوا کن / ذلیل کرنے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیسا برا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت آمیز سزا مقرر ہے

ابوالاعلی مودودی

کیسا برا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت آمیز سزا مقرر ہے

احمد رضا خان

کس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارلے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے -

احمد علی

انہوں نے اپنی جانوں کو بہت ہی بری چیز کے لیے بیچ ڈالا یہ کہ الله کی نازل کی ہوئی چیزوں کا اس ضد میں آ کر انکار کرنے لگے کہ وہ پنے فضل کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کر دیتا ہے سوغضب پر غضب میں آ گئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

جالندہری

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

محمد جوناگڑھی

بہت بری ہے وه چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈاﻻ، وه ان کا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل اپنے جس بنده پر چاہا نازل فرمایا، اس کے باعﺚ یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کافروں کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے

محمد حسین نجفی

سو کس قدر بری ہے وہ چیز جس کے عوض ان لوگوں نے اپنی جانوں کا سودا کیا ہے کہ محض اس ضد اور سرکشی کی بناء پر اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر دیا کہ اس نے اپنے بندوں میں سے ایک خاص بندہ (نبی خاتم (ع)) پر اپنے فضل و کرم سے کیوں (وحی نبوت و کتاب) نازل کر دی؟ پس وہ اس روش کے نتیجہ میں (خدا کے) غضب بالائے غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے۔

علامہ جوادی

ان لوگوں نے اپنے نفس کا کتنا برا سودا کیا ہے کہ زبردستی خدا کے نازل کئے کا انکار کر بیٹھے اس ضد میں کہ خدا اپنے فضل و کر م سے اپنے جس بندے پر جو چاہے نازل کردیتا ہے. اب یہ غضب بالائے غضب کے حقدار ہیں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب بھی ہے

طاہر القادری

انہوں نے اپنی جانوں کا کیا برا سودا کیا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر رہے ہیں، محض اس حسد میں کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (وحی) نازل فرماتا ہے، پس وہ غضب در غضب کے سزاوار ہوئے، اور کافروں کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہے،

تفسير ابن كثير

برا ہو حسد کا
مطلب یہ ہے کہ ان یہودیوں نے حضور کی تصدیق کے بدلے تکذیب کی اور آپ پر ایمان لانے کے بدلے کفر کیا۔ آپ کی نصرت و امداد کے بدلے مخالفت اور دشمین کی اس وجہ سے اپنے آپ کو جس غضب الٰہی کا سزاوار بنایا وہ بدترین چیز ہے جو بہترین چیز کے بدلے انہوں نے لی اور اس کی وجہ سے سوائے حسد و بغض تکبر وعناد کے اور کچھ نہیں چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے قبیلہ میں سے نہ تھے بلکہ آپ عرب میں سے تھے اس لئے یہ منہ موڑ کر بیٹھ گئے حالانکہ اللہ پر کوئی حاکم نہیں وہ رسالت کے حق دار کو خوب جانتا ہے وہ اپنا فضل و کرم اپنے جس بندے کو چاہے عطا فرماتا ہے پس ایک تو توراۃ کے احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے ان پر غضب نازل ہوا دوسرا حضور کے ساتھ کفر کرنے کے سبب نازل ہوا۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ پہلا غضب حضرت عیسیٰ کو پیغمبر نہ ماننے کی وجہ سے اور دوسرا غضب حضرت محمد کو پیغمبر تسلیم نہ کرنے کے سبب سدی کا خیال ہے۔ کہ پہلا غضب بچھڑے کے پوجنے کے سبب تھا دوسرا غضب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کی بناء پر چونکہ یہ حسد و بغض کی وجہ سے حضور کی نبوت سے منکر ہوئے تھے اور اس حسد بغض کا اصلی باعث ان کا تکبر تھا اس لئے انہیں ذلیل عذابوں میں مبتلا کردیا گیا تاکہ گناہ کا بدلہ پورا ہوجائے جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) 40 ۔ غافر ;60) میری عبادت سے جو بھی تکبر کریں گے وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں متکبر لوگوں کا حشر قیامت کے دن انسانی صورت میں چیونٹیوں کی طرح ہوگا جنہیں تمام چیزیں روندتی ہوئی چلیں گی اور جہنم کے " بولس " نامی قید خانے میں ڈال دیئے جائیں گے جہاں کی آگ دوسری تمام آگوں سے تیز ہوگی اور جہنمیوں کا لہو پیپ وغیرہ انہیں پلایا جائے گا۔