Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ۗ خُذُوْا مَاۤ اٰتَيْنٰکُمْ بِقُوَّةٍ وَّاسْمَعُوْا ۗ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاُشْرِبُوْا فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِهِمْ ۗ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُکُمْ بِهٖۤ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

وَ
اور
اِذْ
لیا ہم نے
اَخَذْنَا
پکا وعدہ تم سے
مِيْثَاقَكُمْ
اور
وَ
بلند کیا تم نے
رَفَعْنَا
اوپر تمہارے
فَوْقَكُمُ
طور کو
الطُّوْرَ
پکڑو / لے لو
خُذُوْا
جو
مَآ
دیا ہم نے تم کو
اٰتَيْنٰكُمْ
ساتھ قوت کے
بِقُوَّةٍ
اور
وَّ
سنو
اسْمَعُوْا
انہوں نے کہا
قَالُوْا
سنا ہم نے
سَمِعْنَا
اور
وَ
نافرمانی کی ہم نے
عَصَيْنَا
اور
وَ
وہ پلادیئے گئے
اُشْرِبُوْا
اپنے دلوں میں
فِيْ قُلُوْبِهِمُ
بچھڑے کو (کی محبت)
الْعِجْلَ
اپنے کفر کی وجہ سے
بِكُفْرِھِمْ
کہ دیجئے
قُلْ
کتنا برا ہے جو
بِئْسَمَا
حکم دیتا ہے تم کو
يَاْمُرُكُمْ
ساتھ اس (کفر) کے
بِهٖٓ
ایمان تمہارا
اِيْمَانُكُمْ
اگر
اِنْ
ہو تم
كُنْتُمْ
مومن
مُّؤْمِنِيْنَ
مومن

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو، جو طُور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا کہو; اگر تم مومن ہو، تو عجیب ایمان ہے، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے

ابوالاعلی مودودی

پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو، جو طُور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا کہو: اگر تم مومن ہو، تو عجیب ایمان ہے، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے

احمد رضا خان

اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پیمان لیا او ر کوہ ِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا، لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو-

احمد علی

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر کوہِ طورکو اٹھایا کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور مانیں گے نہیں اور ان کے دلوں میں کفر کی وجہ سے بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی کہہ دو اگر تم ایمان دار ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے

جالندہری

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

محمد جوناگڑھی

جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور کو کھڑا کردیا (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور سنو! تو انہوں نے کہا، ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت (گویا) پلا دی گئی بسبب ان کے کفر کے۔ ان سے کہہ دیجیئے کہ تمہارا ایمان تمہیں برا حکم دے رہا ہے، اگر تم مومن ہو

محمد حسین نجفی

اور (وہ وقت یاد کرو) کہ جب ہم نے تم سے عہد و پیمان لیا اور تمہارے اوپر کوہِ طور کو بلند کیا (اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے غور سے) سنو تو (تمہارے اسلاف) نے زبان سے کہا کہ ہم نے سن تو لیا اور دل میں کہا ہم عمل نہیں کریں گے اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں گوسالہ کی محبت بیٹھ گئی تھی۔ (اے رسول) کہیے! اگر تم مؤمن ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برے کاموں کا حکم دیتا ہے (یہ عجیب ایمان ہے)۔

علامہ جوادی

اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے توریت پر عمل کرنے کا عہد لیا اور تمہارے سروں پر کوسِ طور کو معلق کردیا کہ توریت کو مضبوطی سئے پکڑلو تو انہوں نے ڈر کے مارے فورا اقرار کرلیا کہ ہم نے سن تو لیا لیکن پھر نافرمانی بھی کریں گے کہ ان کے دلوں میں گو سالہ کی محبت گھول کر پلادی گئی ہے. پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر تم ایماندار ہو تو تمہارا ایمان بہت برے احکام دیتا ہے

طاہر القادری

اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپر طور کو اٹھا کھڑا کیا (یہ فرما کر کہ) اس (کتاب) کو مضبوطی سے تھامے رکھو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور (ہمارا حکم) سنو، تو (تمہارے بڑوں نے) کہا: ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں، اور ان کے دلوں میں ان کے کفر کے باعث بچھڑے کی محبت رچا دی گئی تھی، (اے محبوب! انہیں) بتا دیں یہ باتیں بہت (ہی) بری ہیں جن کا حکم تمہیں تمہارا (نام نہاد) ایمان دے رہا ہے اگر (تم واقعۃً ان پر) ایمان رکھتے ہو،

تفسير ابن كثير

صدائے باز گشت
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کی خطائیں مخالفتیں سرکشی اور حق سے روگردانی بیان فرما رہا ہے کہ طور پہاڑ جب سروں پر دیکھا تو اقرار کرلیا جب وہ ہٹ گیا تو پھر منکر ہوگئے۔ اس کی تفسیر بیان ہوچکی ہے بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ گئی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بچھڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں اڑا کر دریا میں ڈال دیا تھا جس پانی کو بنی اسرائیل نے پی لیا اور اس کا اثر ان پر ظاہر ہوا گو بچھڑا نیست و نابود کردیا گیا لیکن ان کے دلوں کا تعلق اب بھی اس معبود باطل سے لگا رہا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان کا دعویٰ کس طرح کرتے ہو ؟ اپنے ایمان پر نظر نہیں ڈالتے ؟ بار بار کی عہد شکنیاں کئی بار کے کفر بھول گئے ؟ حضرت موسیٰ کے سامنے تم نے کفر کیا ان کے بعد کے پیغمبروں کے ساتھ تم نے سرکشی کی یہاں تک کہ افضل الانبیاء ختم المرسلین حضرت محمد مصطفے ٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو بھی نہ مانا جو سب سے بڑا کفر ہے۔