Skip to main content

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىْۤ اَعْمٰى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا

قَالَ
وہ کہے گا
رَبِّ
اے میرے رب
لِمَ
کیوں
حَشَرْتَنِىٓ
تو نے اٹھایا مجھ کو
أَعْمَىٰ
اندھا
وَقَدْ
حالانکہ تحقیق
كُنتُ
میں تھا
بَصِيرًا
دیکھنے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا

احمد علی Ahmed Ali

کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں بینا تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے حالانکہ میں آنکھوں والا تھا؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ کہے گا کہ پروردگار یہ تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے جب کہ میں دا» دنیا میں صاحبِ بصارت تھا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھا،