المؤمنون آية ۴۵
ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ۙ بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ
طاہر القادری:
پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور روشن دلیل دے کر بھیجا،
English Sahih:
Then We sent Moses and his brother Aaron with Our signs and a clear authority
1 Abul A'ala Maududi
پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا
2 Ahmed Raza Khan
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیتوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،
3 Ahmed Ali
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر
4 Ahsanul Bayan
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل (١) کے ساتھ بھیجا۔
٤٥۔١ آیات سے مراد وہ نو آیات ہیں، جن کا ذکر سورہ اعراف میں ہے، جن کی وضاحت گزر چکی ہے اور سُلْطَانٍ مُبِیْنٍ سے مراد واضح اور پختہ دلیل ہے، جس کا کوئی جواب فرعون اور اس کے درباریوں سے نہ بن پڑا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا
6 Muhammad Junagarhi
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا
7 Muhammad Hussain Najafi
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
پھر ہم نے موسٰی اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا
9 Tafsir Jalalayn
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا
10 Tafsir as-Saadi
بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔۔۔۔ کہ موسیٰ علیہ السلام کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھایالیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کردیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہوگیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے درپے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہوگیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات، تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : ﴿ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ (القصص :28؍43)” پچھلی قوموں کو ہلاک کردینے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔
شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ یونس میں ذکر فرمایا ہے : ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِن قَبْلُ ۚ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ - ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ﴾ (یونس : 10؍74، 75)” پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ(بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا“ ﴿ وَأَخَاهُ هَارُونَ﴾ ’’اور ( ان کے ساتھ)ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِآيَاتِنَا ﴾ ” اپنی نشانیوں کے ساتھ۔“ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ﴿ وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ﴾ “ اور واضح برہان کے ساتھ۔“ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کرلیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہوجاتی۔
اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے﴿ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ (بنی اسرائیل :17؍101) ” اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نوکھلی کھلی نشانیاں عطا کیں۔“ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ﴾ “آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے ! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے“ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا﴾ ( بنی اسرائیل : 17؍101)” اے موسیٰ ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں۔“ ﴿ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا ﴾ ( بنی اسرائیل:17؍101)” موسیٰ نے کہا : تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ﴾ (النمل :27؍14) ’’انہوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔ “
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ﴾ ” پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔“ مثلاً ہامان اور دیگر سرداران قوم۔
11 Mufti Taqi Usmani
phir hum ney musa aur unn kay bhai Haroon ko apni nishaniyon aur wazeh saboot kay sath
12 Tafsir Ibn Kathir
دریا برد فرعون
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے گذشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لئے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔