جب تم اس (بات) کو (ایک دوسرے سے سن کر) اپنی زبانوں پر لاتے رہے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے رہے جس کا (خود) تمہیں کوئی علم ہی نہ تھا اور اس (چرچے) کو معمولی بات خیال کر رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے حضور بہت بڑی (جسارت ہو رہی) تھی،
English Sahih:
When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah, tremendous.
1 Abul A'ala Maududi
(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی
2 Ahmed Raza Khan
جب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے
3 Ahmed Ali
جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ الله کے نزدیک بڑی بات ہے
4 Ahsanul Bayan
جبکہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالٰی کے نزدیک ایک بہت بڑی بات تھی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
6 Muhammad Junagarhi
جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منھ سے وه بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه بہت بڑی بات تھی
7 Muhammad Hussain Najafi
جب تم لوگ اس (بہتان) کو ایک دوسرے کی زبان سے نقل کر رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا خود تمہیں علم نہیں تھا۔ اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جب تم اپنی زبان سے چرچا کررہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تمہیں علم بھی نہیں تھا اور تم اسے بہت معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی
9 Tafsir Jalalayn
جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
10 Tafsir as-Saadi
﴿ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ ﴾ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل درنقل لے رہے تھے اور پھر یہ واقعہ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے۔۔۔۔ حالانکہ وہ باطل قول تھا۔ ﴿ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ ﴾ ” اور تم اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم ہی نہیں تھا) دونوں امور حرام ہیں، یعنی کلام باطل اور بغیر علم کے بات کرنا ﴿ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا ﴾ ” اور تم اس بات کو بہت معمولی سمجھ رہے تھے“ اہل ایمان میں سے جس کسی نے اس کا ارتکاب کیا اسی وجہ سے کیا، بعدازاں اس سے توبہ کی اور اس گناہ سے پاک ہوئے ﴿ وَهُوَ عِندَ اللّٰـهِ عَظِيمٌ ﴾ ” حالانکہ وہ اللہ کے ہاں بہت بڑی بات ہے۔“ اس آیت کریمہ میں بعض گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھ کر ان کا ارتکاب کرنے پر سخت زجرو توبیخ ہے۔ بندے کا گناہوں کو ہلکا شمار کرنا اس کو فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے گناہ کی سزا میں کمی ہی کی جاتی ہے، بلکہ اس طرح گناہ دگنا چوگنا ہوجاتا ہے اور گناہ میں دوبارہ مبتلا ہونا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
jab tum apni zabanon say iss baat ko aik doosray say naqal ker rahey thay , aur apney mun say woh baat keh rahey thay jiss ka tumhen koi ilm nahi tha , aur tum iss baat ko mamooli samajh rahey thay , halankay Allah kay nazdeek woh bari sangeen baat thi .