Skip to main content

وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۤءَنَا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰۤٮِٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا ۗ لَـقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
لَا
نہیں
يَرْجُونَ
جو امید رکھتے
لِقَآءَنَا
ہماری ملاقات کی
لَوْلَآ
کیوں نہیں
أُنزِلَ
اتارے گئے۔ نازل کیے گئے
عَلَيْنَا
ہم پر
ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ
فرشتے
أَوْ
یا
نَرَىٰ
ہم دیکھتے
رَبَّنَاۗ
اپنے رب کو
لَقَدِ
البتہ تحقیق
ٱسْتَكْبَرُوا۟
انہوں نے تکبر کیا
فِىٓ
میں
أَنفُسِهِمْ
اپنے نفسوں
وَعَتَوْ
اور انہوں نے سرکشی کی
عُتُوًّا
سرکشی
كَبِيرًا
بڑی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بولے وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی (سرکشی کی) اور بڑی سرکشی پر آئے

احمد علی Ahmed Ali

اور ان لوگوں نے کہا جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ بھیجے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے البتہ انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑاسمجھ لیا ہے اور بہت بڑی سرکشی کی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ (١) یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے (٢) ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کر لی ہے۔

٢١۔١ یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔
٢١۔٢ یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔
۲۱۔۳ اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالٰی کی منشا کے خلاف ہیں اللہ تعالٰی تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہو جائے اس لیے اللہ تعالٰی ایسا کام کیونکر کر سکتا ہے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے؟ ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کرلی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جو لوگ ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے؟ یا ہم اپنے پروردگار کو ہی دیکھ لیتے! انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور سرکشی میں حد سے گزر گئے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ آخر ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے یا ہم خدا کو کیوں نہیں دیکھتے درحقیقت یہ لوگ اپنی جگہ پر بہت مغرور ہوگئے ہیں اور انتہائی درجہ کی سرکشی کررہے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے (تو پھر ضرور ایمان لے آتے)، حقیقت میں یہ لوگ اپنے دِلوں میں (اپنے آپ کو) بہت بڑا سمجھنے لگے ہیں اور حد سے بڑھ کر سرکشی کر رہے ہیں،