Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
مَتَىٰ
کب ہوگا
هَٰذَا
یہ
ٱلْوَعْدُ
وعدہ
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
صَٰدِقِينَ
سچے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ کہتے ہیں کہ "یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ کہتے ہیں کہ "یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو،

احمد علی Ahmed Ali

اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہے اگر سچے ہو تو بتلا دو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہے اگر سچے ہو تو بتلا دو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ وعید کب پورا ہوگا؟ اگر تم سچے ہو؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ آخر کب پورا ہونے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ (عذابِ آخرت کا) وعدہ کب پورا ہوگا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قیامت کے منکر
مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51؀) 17 ۔ الإسراء ;51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا ( سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10۝) 13 ۔ الرعد ;10) ، اور آیت میں ہے ( يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي ۝) 20 ۔ طه ;7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ۝) 11 ۔ ھود ;5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔