Skip to main content

يٰنِسَاۤءَ النَّبِىِّ مَنْ يَّأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۗ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا

يَٰنِسَآءَ
اےعورتو
ٱلنَّبِىِّ
نبی کی
مَن
جو
يَأْتِ
آئے گی
مِنكُنَّ
تم میں سے
بِفَٰحِشَةٍ
بےحیائی کو
مُّبَيِّنَةٍ
کھلی
يُضَٰعَفْ
دوگنا کیا جائے گا
لَهَا
اس کے لیے
ٱلْعَذَابُ
عذاب
ضِعْفَيْنِۚ
دوگنا
وَكَانَ
اور ہے
ذَٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرًا
بہت آسان

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا اور یہ اللہ کو آسان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اے نبی کی بیویو تم میں سے جو کوئی کھلی ہوئی بدکاری کرے تو اسے دگنا عذاب دیا جائے گا اور یہ الله پر آسان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بےحیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا (١) اور اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے۔

٣٠۔١ قرآن میں الفَاحِشَۃُ(مُعَرَّف بلام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فَاحِشَۃ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بد اخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بد اخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبہ لوگوں کی معمولی غلطیاں بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انہیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی بے حیائی اور برائی کرے گی تو اسے دوہری سزا دی جائے گی اور یہ بات اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اے زنان هپیغمبر جو بھی تم میں سے کِھلی ہوئی برائی کا ارتکاب کرے گی اس کا عذاب بھی دہرا کردیا جائے گا اور یہ بات خد اکے لئے بہت آسان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے اَزواجِ نبیِ (مکرّم!) تم میں سے کوئی ظاہری معصیت کی مرتکب ہو تو اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا، اور یہ اﷲ پر بہت آسان ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کرلیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لئے مقرر ہو چکیں۔ تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی۔ اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا جیسے فرمان ہے آیت (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39 ۔ الزمر ;65) اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں گے۔ نبیوں کا ذکر کر کے فرمایا آیت (وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 88؀) 6 ۔ الانعام ;88) اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہوجائیں اور آیت میں ہے ( قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81؀) 43 ۔ الزخرف ;81) اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے ( لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۝) 39 ۔ الزمر ;4) یعنی اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ممکن۔ نہ اللہ کی اولاد۔ اسی طرح امہات المومنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہوگی اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو۔ نعوذ باللہ