Skip to main content

مَا كَانَ عَلَى النَّبِىِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ۗ سُنَّةَ اللّٰهِ فِى الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۗ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ۙ

مَّا
نہیں
كَانَ
ہے
عَلَى
پر
ٱلنَّبِىِّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
مِنْ
کوئی
حَرَجٍ
حرج
فِيمَا
اس معاملے میں
فَرَضَ
جو مقرر کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
لَهُۥۖ
اس کے لیے
سُنَّةَ
طریقہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
فِى
میں
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں (میں)
خَلَوْا۟
جو گزر چکے
مِن
سے
قَبْلُۚ
اس سے پہلے
وَكَانَ
اور ہے
أَمْرُ
حکم
ٱللَّهِ
اللہ کا
قَدَرًا
اندازے میں
مَّقْدُورًا
مقرر کیا ہوا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے

احمد علی Ahmed Ali

نبی پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے جو الله نے اس اس کے لیے مقرر کر دی ہے جیسا کہ الله کا پہلے لوگو ں میں دستور تھا اور الله کا کام اندازے پر مقرر کیا ہوا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو چیزیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں (١) (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہے جو پہلے ہوئے (٢) اور اللہ تعالٰی کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں۔

٣٨۔١ یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔
٣٨۔٢ یعنی گزشتہ انبیاء علیہم السلام بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔
۳۸۔۳یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اس کام کے کرنے میں نبی(ص) پر کوئی مضائقہ نہیں ہے جو خدا نے ان کیلئے مقرر کیا ہے جو لوگ (انبیاء(ع)) اس سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کا یہی معمول رہا ہے اور اللہ کا حکم حقیقی اندازے کے مطابق مقرر کیا ہوا ہوتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

نبی کے لئے خدا کے فرائض میں کوئی حرج نہیں ہے یہ گزشتہ انبیائ کے دور سے سنّت الہٰیّہ چلی آرہی ہے اوراللہ کا حکم صحیح اندازے کے مطابق مقرر کیا ہوا ہوتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کام (کی انجام دہی) میں کوئی حرج نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لئے فرض فرما دیا ہے، اللہ کا یہی طریقہ و دستور اُن لوگوں میں (بھی رہا) ہے جو پہلے گزر چکے، اور اللہ کا حکم فیصلہ ہے جو پورا ہوچکا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم۔
فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔