Skip to main content

يَسْـــَٔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِۗ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِۗ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِيْبًا

يَسْـَٔلُكَ
پوچھتے ہیں آپ سے
ٱلنَّاسُ
لوگ
عَنِ
کے بارے میں
ٱلسَّاعَةِۖ
قیامت کی
قُلْ
کہہ دیجئے
إِنَّمَا
بیشک
عِلْمُهَا
علم اس کا
عِندَ
پاس
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَمَا
اور کیا
يُدْرِيكَ
چیز بتائے تجھ کو
لَعَلَّ
شاید کہ
ٱلسَّاعَةَ
قیامت
تَكُونُ
ہو
قَرِيبًا
قریب ہی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی کہو، اُس کا علم تو اللہ ہی کو ہے تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی کہو، اُس کا علم تو اللہ ہی کو ہے تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو

احمد علی Ahmed Ali

آپ سے لوگ قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اس کا علم تو صرف الله ہی کو ہے اور اپ کو کیا خبر کہ شاید قیامت قریب ہی ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کب آئے گی؟) آپ کہہ دیجئے! کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے (اے سائل!) تمہیں کیا خبر شاید قیامت قریب ہی ہو؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ اس کا علم خدا کے پاس ہے اور تم کیا جانو شائد وہ قریب ہی ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قیامت قریب تر سمجھو۔
لوگ یہ سمجھ کر کہ قیامت کب آئے گی۔ اس کا علم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے۔ آپ سے سوال کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی معلوم کروا دیا کہ اس کا مطلق مجھے علم نہیں یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ سورة اعراف میں بھی یہ بیان ہے اور اس سورت میں بھی پہلی سورت مکہ میں اتری تھی یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔ جس سے ظاہر کرا دیا گیا کہ ابتدا سے انتہا تک قیامت کے صحیح وقت کی تعیین آپ کو معلوم نہ تھی۔ ہاں اتنا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معلوم کرا دیا تھا کہ قیامت کا وقت ہے قریب۔ جیسے اور آیت میں ہے ( اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۝) 54 ۔ القمر ;1) اور آیت میں ہے ( اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۝ۚ ) 21 ۔ الأنبیاء ;1) اور ( اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۝) 16 ۔ النحل ;1) وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ان پر ابدی لعنت فرمائی ہے۔ دار آخرت میں ان کیلئے آگ جہنم تیار ہے جو بڑی بھڑکنے والی ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے نہ کبھی نکل سکیں نہ چھوٹ سکیں اور وہاں نہ کوئی اپنا فریاد رس پائیں گے نہ کوئی دوست و مددگار جو انہیں چھڑالے یا بچاسکے، یہ جہنم میں منہ کے بل ڈالے جائیں گے۔ اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش کہ ہم اللہ رسول کے تابعدار ہوتے۔ میدان قیامت میں بھی ان کی یہی تمنائیں رہیں گی ہاتھ کو چباتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم قرآن حدیث کے عامل ہوتے۔ کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے قرآن و حدیث سے بہکا دیا فی الواقع شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے اور آیت میں ہے ( رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ۝) 15 ۔ الحجر ;2) عنقریب کفار آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے علماء کی پیروی کی۔ امراء اور مشائخین کے پیچھے لگے رہے۔ رسولوں سے اختلاف کیا اور یہ سمجھا کہ ہمارے بڑے راہ راست پر ہیں۔ ان کے پاس حق ہے آج ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ کچھ نہ تھے۔ انہوں نے تو ہمیں بہکا دیا، پروردگار تو انہیں دوہرا عذاب کر۔ ایک تو انکے اپنے کفر کا ایک ہمیں برباد کرنے کا۔ اور ان پر بدترین لعنت نازل کر۔ ایک قرأت میں کبیراً کے بدلے کثیراً ہے مطلب دونوں کا یکساں ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی ایسی دعا کی درخواست کی جسے وہ نماز میں پڑھیں تو آپ نے یہ دعا تعلیم فرمائی (اللھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا و انہ ولا یغفرالذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم) یعنی اے اللہ میں نے بہت سے گناہ کئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی انہیں معاف نہیں کرسکتا پس تو اپنی خصوصی بخشش سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بڑا ہی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس حدیث میں بھی ظلما کثیراً اور کبیراً دونوں ہی مروی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دعا میں کثیراً کبیراً دونوں لفظ ملالے۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں بلکہ ٹھیک یہ ہے کہ کبھی کثیراً کہے کبھی کبیراً دونوں لفظوں میں سے جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کو جمع نہیں کرسکتا، واللہ اعلم۔ حضرت علی کا ایک ساتھی آپ کے مخالفین سے کہہ رہا تھا کہ تم اللہ کے ہاں جاکر یہ کہو گے کہ (ربنا انا اطعنا) الخ۔