سبا آية ۲۲
قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ
طاہر القادری:
فرما دیجئے: تم انہیں بلا لو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو، وہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کے مالک نہیں ہیں اور نہ زمین میں، اور نہ ان کی دونوں (زمین و آسمان) میں کوئی شراکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے،
English Sahih:
Say, [O Muhammad], "Invoke those you claim [as deities] besides Allah." They do not possess an atom's weight [of ability] in the heavens or on the earth, and they do not have therein any partnership [with Him], nor is there for Him from among them any assistant.
1 Abul A'ala Maududi
(اے نبیؐ، اِن مشرکین سے) کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار بھی نہیں ہے
2 Ahmed Raza Khan
تم فرماؤ پکارو انہیں جنہیں اللہ کے سوا سمجھے بیٹھے ہو وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
3 Ahmed Ali
کہہ دوالله کے سوا جن کا تمہیں گھمنڈ ہے انہیں پکارو وہ نہ تو آسمان ہی میں ذرّہ بھر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان میں کچھ حصہ ہے اور نہ ان میں سے الله کا کوئی مددکار ہے
4 Ahsanul Bayan
کہہ دیجئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو (۱) نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے (۲) نہ ان کا ان میں کوئی حصہ (۳) نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے (٤)
۲۲۔۱یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زعمتم کے دو مفعول محذوف ہیں زعمتموہم الھۃ یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔
٢٢۔۲ یعنی انہیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شرپر، کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی، آسمان و زمین کا ذکر نہ عموم کے لئے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لئے یہی ظرف ہیں۔
٢٢۔۳ نہ پیدائش میں نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔
٢٢۔٤ جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالٰی ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا مالک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے
6 Muhammad Junagarhi
کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
اے رسول(ص)! (ان مشرکین سے) کہیے! تم ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو( پھر دیکھو) وہ ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں، نہ آسمانوں اور زمین میں اور نہ ہی ان کی ان دونوں (کی ملکیت) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس (اللہ) کا مددگار ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ انہیں پکارو جن کااللہ کو چھوڑ کر تمہیں خیال تھا تو دیکھو گے کہ یہ آسمان و زمین میں ایک ذرہ ّ برابر اختیار نہیں رکھتے ہیں اور ان کا آسمان و زمین میں کوئی حصہّ ہے اور نہ ان میں سے کوئی ان لوگوں کا پشت پناہ ہے
9 Tafsir Jalalayn
کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے
آیت نمبر 22 تا 30
ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت ہوجائے ہمزہ کے فتحہ اور اس ضمہ کے ساتھ تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے، معروف اور مجہول کے صیغہ کے ساتھ، یعنی جب اجازت دیکر ان کے دلوں کا خوف دور کردیا جائے گا تو آپس میں طلب بشارت کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے پروردگار نے شفاعت کے بارے میں کیا فرمایا ؟ جواب دیں گے حق بات فرمائی یعنی شفاعت کی اجازت دیدی وہ عالی شان اپنی مخلوق پر قہر کے ذریعہ غالب ہے سب سے بڑا ہے آپ پوچھئے کہ تم کو آسمان سے پانی برسا کر اور زمین سے نباتات اگا کر روزی کون پہنچاتا ہے ؟ اگر وہ جواب ن دیں تو آپ (خود ہی) جواب دیجئے کہ اللہ تعالیٰ (روزی دیتا ہے) (اس لئے کہ) اس کے علاوہ کوئی جواب ہی نہیں ہے (سنو) ہم یا تم دونوں فریقوں میں سے ایک یا تو یقیناً ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں ہے مبہم رکھنے میں ان کے ساتھ نرمی ہے جو ایمان کی طرف داعی ہے، جبکہ ان کو ایمان کی توفیق دیجائے آپ کہہ دیجئے ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا اس لئے کہ ہم تم سے بری ہیں، آپ ان کو بتادیجئے کہ ہم سب کو ہمارا رب قیامت کے دن جمع کرے گا پھر ہمارے درمیاب برحق فیصلے کرے گا کہ حق پرستوں کو جنت میں اور باطل پرستوں کو جہنم میں داخل کرے گا وہ بڑا فیصلے کرنے والا ہے اور جو فیصلہ کرتا ہے اس کو بخوبی جاننے والا ہے (آپ) کہہ دیجئے کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھاؤ بتاؤ جنہیں تم اللہ کا عبادت میں شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو ایسا ہرگز نہیں، یہ کفار کو اس کے ساتھ اعتقاد شریک پر تو بیخ ہے بلکہ وہی ہے اللہ اپنے امر پر غالب اور اپنی مخلوق کی تدبیر میں حکمت والا لہٰذا اس ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا ہم نے آپ کو تمام لوگوں کو یعنی مومنین کو جنت کی خوشخبری ننانے والا اور کافروں کو عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کافّۃ، للناس سے حال ہے اس کے اہتمام کے پیش نظر مقدم کردیا گیا ہے مگر اکثر لوگ یعنی کفار مکہ اس کا علم نہیں رکھتے اور پوچھتے ہیں کہ یہ وعدۂ عذاب کب ہے ؟ اگر تم اس (وعدے) میں سچے ہو تو (بتادو) آپ جواب دیجئے کہ تمہارے واسطے وعدہ کا دن معین ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو اور وہی قیامت کا دن ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَلَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُوْنِ اللہِ ای زَعَمْتُمُوْ ھم اٰلِھَۃً اس عبارت کے اضافہ سے شارح کا مقصد یہ بتانا ہے کہ زَعَمْتُمْ کے دونوں
مفعول موصول باصلہ کے طویل ہوجانے کی وجہ سے محذوف ہیں اول مفعول کو حذف کردیا اور دوسرے مفعول یعنی اٰلِھَۃً کو صفت یعنی مِنْ دُوْنِ اللہ کے قائم مقام ہوجانے کی وجہ سے خذف کردیا مفعول اول ھُمْ اور مفعول ثانی اٰلِھَۃً ہے۔
قولہ : لِیَنْفَعُوْ کُمْ. اُدْعُوْا کے متعلق ہے ای اُدْعُوالِیَکْشِفُوا عَنْکُم الضُّرَّ ۔
قولہ : وَمَالَھُمْ فِیْھَا مِنْ شِرْکِ ما نافیہ لَھُمْ خبر لَھُمْ خبر مقدم ہے من زائدہ ہے شرکٍ مبتداء مؤخرلفظاً مجرور اور محلاً مرفوع ہے۔
قولہ : فُزِّعَ مبنی للمفعول یعنی انکے دل کا خوف دور کردیا گیا، تضیف سلب کے لئے ہے کہا جاتا ہے قَرَّدْتُ البَعِیْرَ ای اَزَلْتُ قُرَادَہٗ میں اونٹ کی چچڑی دور کردی۔
قولہ : مَاذا قال رَبُّکم فیھا ای فی الشفاعَۃِ. قولہ : القول الحق اس میں اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ الحقَّ مصدر کی صفت ہے
قولہ : القول الحق اس میں اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ الحقَّ محذوف کی صفت ہے۔
قولہ : قل اللہ . اللہُ مبتداء یَرْزُقُنَا اس کی خبر محذوف۔
قولہ : اَرُوْنِیْ . اعْلِمُونِی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روایت سے مراد رویت قلبیہ ہے اور متعدی بد ومفعول ہے جب اس کے شروع میں ہمزہ لایا گیا تو متعدی بہ سہ مفعول ہوگیا اول مفعول ارونی میں ی ہے ثانی اسم موصول اور ثالث شُرَکاء صلہ کی ضمیر عائد محذوف ہے ای اَلْحَقْتُمُوْھُمْ.
قولہ : کافَّۃً ای جَمِیْعًا ای اَرْسَلْنٰکَ کے کاف سے حال ہے ای اَرْسَلْنٰکَ جامِعًا للناس فی الا نذَار والإبلاغ ۃ مبالغہ کے لئے جیسا کہ علامۃ میں ۃ مبالغہ کے لئے اور کافۃ للنَّاس سے حال مقدم ہوسکتا ہے ای للناس کافۃً یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو حال کی جار مجرور پر تقدیم کو جائز سمجھتے ہیں، نیز مصدر محذوف کی صفت بھی ہوسکتی ہے ای اِرْسَالَۃً کافّۃً للناس .
قولہ : بَشِیْرًا ونَذِیراً یہ دونوں اَرسلنَکَ کے کاف سے حال ہیں۔
قولہ : قل لَکُمْ مِیْعَادُ یومٍ میں لَکُمْ خبر مقدم ہے اور مِیْعَادُ یَوْمٍ مبتدا مؤخر۔
تفسیر وتشریح
قل۔۔۔ زعمتم (الآیۃ) اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہے اور کفار سے یا تو کفار قریش مراد ہیں یا مطلقا کفار مراد ہیں، دلالت سیاق کی وجہ سے زعمتم کے دونوں مفعول محذوف ہیں، روز قیامت کسی کی سفارش کسی کے لئے کام نہیں آئے گی، الاّیہ کہ سفارش کی اجازت مل جائے، اجازت کا مطلب یہ ہے کہ سفارش کا استحقاق اجازت پر موقوف ہوگا یعنی انبیاء اور ملائکہ وصلحاء اسی وقت سفارش کی ہمت کریں گے جب ان کو بارگاہ ایزدی سے اجازت مل جائے گی، اسی طرح سفارش کی اجازت بھی ان لوگوں کے حق میں ہوگی جن کے لئے اجازت ہوگی اور یہ اجازت مومن گنہ گاروں کے لئے ہوگی، کافروں مشرکوں اور اللہ کے باغیوں کے لئے نہیں، قرآن کریم نے ان دونوں کی دوسری جگہ وضاحت فرمادی ہے مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ، وَلَایَشْفعُونَ اِلَّالِمَنِ ارْتَضٰی
آیات مذکورہ میں حکم ربانی نزول کے وقت فرشتوں کا مدہوش ہوجانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ تاچھ کرنے کا
ذکر ہے، اس کا بیان صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت میں اس طرح آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم نافذ فرماتے ہیں تو سب فرشتے خشوع و خضوع سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں، اور مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں، جب انکے دلوں سے گھبراہٹ اور ہیبت و جلال کا اثر دور ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں حکم حق فرمایا ہے۔
بحث ومناظرہ میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز :
وانا۔۔ مبین یہ کفار و مشرکین سے خطاب ہے، دلائل واضحہ، براہین قاطعہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک اور قادر مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرادیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کرکے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو، خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو، مگر قرآن حکیم نے اس جگہ حکیمانہ عنوان اختیار کیا جو دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث ومناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ ہے کہ اس کو کافر اور گمراہ کہنے کے بجائے عنوان یہ رکھا کہ ان دلائل واضحہ کی روشنی میں یہ تو کوئی سمجھ دار آدمی نہیں کہہ سکتا کہ توحید وشرک دونوں باتیں حق ہیں اور اہل توحید اور مشرک دونوں حق پر ہیں، بلکہ یقینی بات ہے کہ ان دونوں میں سے ایک فریق حق پر اور دوسرا گمراہی پر ہے، اب تم خود سوچ لو اور فیصلہ کرلو کہ ہم حق پر ہیں یا تم، مخاطب کافر اور گمراہ کہنے سے اشتعال میں آجاتا، اس لئے اس سے احتراز کیا گیا ہے اور ایسا مشفقانہ انداز اختیار کیا گیا کہ سنگدل مخاطب بھی غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ (قرطبی وبیان القرآن بحوالہ معارف)
کافَّۃً للنَّاس عربی محاورہ میں کافۃ کا لفظ عموم وشمول کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے کوئی مستثنیٰ نہ ہو، اصل عبارت کا ترکیبی تقاضہ یہ تھا کہ للناسِ کافَّۃ کہا جاتا، کیونکہ للناس، کافّۃً سے حال ہے، مگر عموم بعث کے اہتمام کو بیان کرنے کے لئے لفظ کافۃً مقدم کردیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی انبیاء تشریف لائے ان کی رسالت و نبوت کسی خاص خطہ کے لئے تھی، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت اور فضیلت کا بیان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تمام کے لئے عام ہے خواہ جن ہوں یا انس اور قیامت تک کے لئے ہے، آپ کی نبوت کا تاقیامت باقی رہنا اس کا متقاضی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی (١) ، ایک مہینہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے سے میری مدد فرمائی گئی ہے ( ٢) تمام زمین میرے لئے مسجد اور طہور کردی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے مسجد ضروری نہیں ہے (اور اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرلے) (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا (٤) مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے (٥) پہلے نبی صرف اپنی قوم کے لئے بھیجا جاتا تھا مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب التیمم، صحیح مسلم کتاب المساجد)
10 Tafsir as-Saadi
﴿قُلِ﴾ اے رسول ! جو لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی کو کوئی نفع نقصان نہیں دے سکتی انہیں خود ساختہ معبودوں کا عجز اور ان کی عبادت کا بطلان واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : ﴿ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللّٰـهِ﴾ یعنی جنہیں تم اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو، اگر تمہارا پکارنا کوئی فائدہ دے سکتا ہے، تو انہیں پکار دیکھو۔ ان کی بے بسی اور تمہاری پکار کا جواب دینے پر عدم قدرت کے اسباب ہر لحاظ سے بہت زیادہ اور واضح ہیں۔
بلاشبہ وہ کسی ادنیٰ سی چیز کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ﴿لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ﴾ ” وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں“ یعنی وہ مستقل طور پر کسی چیز کے مالک ہیں نہ کسی چیز کی ملکیت میں اشتراک رکھتے ہیں، بنا بریں فرمایا : ﴿وَمَا لَهُمْ﴾ ” اور ان کے لئے نہیں ہے“ یعنی جن کو تم نے معبود سمجھ رکھا ہے ﴿ فِيهِمَا﴾ آسمانوں اور زمین میں ﴿مِن شِرْكٍ﴾ ” کوئی شراکت“ یعنی خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ان کا اس میں کوئی بھی حصہ نہیں ہے۔ پس وہ کسی چیز کے مالک ہیں نہ ملکیت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ ان کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور ملکیت میں شریک نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مالک کے اعوان و انصار اور اس کے وزراء، لہٰذا ان کو پکارنا نفع مند ہے، کیونکہ بادشاہ ان کا محتاج ہوتا ہے اور وہ اپنے متعلقین کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مرتبہ و مقام کی بھی نفی فرما دی، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَمَا لَهُ﴾ ” اور نہیں ہے اس کے لئے“ یعنی اللہ تعالیٰ واحد قہار کے لئے ﴿ مِنْهُم ﴾ ان خود ساختہ معبودوں میں سے ﴿ مِّن ظَهِيرٍ﴾ کوئی معاون اور وزیر، جو کاروبار، اقتدار اور تدبیر مملکت میں اس کی مدد کرے۔
11 Mufti Taqi Usmani
. ( aey payghumber ! inn kafiron say ) kaho kay : pukaro unn ko jinhen tum ney Allah kay siwa khuda samjha huwa hai . woh aasmano aur zameen mein zarra barabar kissi cheez kay malik nahi hain , naa unn ko aasman o zameen kay moamlaat mein ( Allah kay sath ) koi shirkat hasil hai , aur naa unn mein say koi Allah ka madadgaar hai .
12 Tafsir Ibn Kathir
وحدہ لاشریک
بیان ہو رہا ہے کہ اللہ اکیلا ہے، واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بےنظیر، لاشریک اور بےمثیل ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساتھی نہیں، مشیر نہیں، وزیر نہیں، مددگار و پیشی بان نہیں۔ پھر ضد کرنے والا اور خلاف کہنے والا کہاں ؟ جن جن کو پکارا کرتے و پکار کر دیکھ لو معلوم ہوجائے گا کہ ایک ذرے کے بھی مختار نہیں۔ محض بےبس اور بالکل محتاج و عاجز ہیں، نہ زمینیوں میں ان کی کچھ چلے نہ آسمانوں میں جیسے اور آیت میں ہے کہ وہ ایک کھجور کے چھلکے کے سی مالک نہیں اور یہی نہیں کہ انہیں خود اختیاری حکومت نہ ہو نہ سہی شرکت کے طور پر ہی ہو نہیں شرکت کے طور پر بھی نہیں۔ نہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے کسی کام میں مدد لیتا ہے۔ بلکہ یہ سب کے سب فقیر محتاج ہیں اس کے در کے غلام اور اس کے بندے ہیں، اس کی عظمت وکبریائی عزت و بڑائی ایسی ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش بغیر اس کی رضامندی کے بغیر کرسکے اور آیت میں ہے ( وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى 26) 53 ۔ النجم :26) ، یعنی آسمانوں کے کل فرشتے بھی اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لئے لب ہلا نہیں سکتے مگر جس کے لئے اللہ اپنی رضامندی سے اجازت دے دے۔ ایک اور جگہ فرمان ہے (وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 28) 21 ۔ الأنبیاء :28) ، وہ لوگ صرف ان کی شفاعت کرسکتے ہیں جن کے لئے اللہ کی رضامندی ہو وہ تو خود ہی اس کے خوف سے تھرا رہے ہیں۔ تمام اولاد آدم کے سردار سب سے بڑے شفیع اور سفارشی حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جب قیامت کے دن مقام محمود میں شفاعت کے لئے تشریف لے آئیں گے کہ اللہ تعالیٰ آئے اور مخلوق کے فیصلے کرے اس وقت کی نسبت آپ فرماتے ہیں میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اللہ جانتا ہے کہ کب تک سجدے میں پڑا رہو گا اس سجدے میں اس قدر اپنے رب کی تعریفیں بیان کروں گا کہ اس وقت تو وہ الفاظ بھی مجھے معلوم نہیں۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر اٹھایئے آپ بات کیجئے آپ کی بات سنی جائے گی آپ مانگئے آپ کو دیا جائے گا۔ آپ شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی۔ رب کی عظمت کا ایک اور مقام بیان ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی وحی میں کلام کرتا ہے اور آسمانوں کے مقرب فرشتے اسے سنتے ہیں تو ہیبت سے کانپ اٹھتے ہیں اور غشی والے کی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ ہٹ جاتی ہے۔ فزع کی دوسری قرأت فرغ بھی آئی ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔ تو اب آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ اس وقت رب کا کیا حکم نازل ہوا ؟ پس اہل عرش اپنے پاس والوں کو وہ اپنے پاس والوں کو یونہی درجہ بدرجہ حکم پہنچا دیتے ہیں بلا کم وکاست ٹھیک ٹھیک اسی طرح پہنچا دیتے ہیں۔ ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب سکرات کا وقت آتا ہے۔ اس وقت مشرک یہ کہتے ہیں اور اسی طرح قیامت کے دن بھی جب اپنی غفلت سے چونکیں گے اور ہوش و حواس قائم ہوجائیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ جواب ملے گا کہ حق فرمایا، حق فرمایا اور جس چیز سے دنیا میں بےفکر تھے آج اس کے سامنے پیش کردی جائے گی۔ تو دلوں سے گھبراہٹ دور کئے جانے کے یہ معنی ہوئے کہ جب آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اس وقت سب شک و تکذیب الگ ہوجائیں گے۔ شیطانی وساوس دور ہوجائیں گے اس وقت رب کے وعدوں کی حقانیت تسلیم کریں گے اور اس کی بلندی اور بڑائی کے قائل ہوں گے۔ پس نہ تو موت کے وقت کا اقرار نفع دے نہ قیامت کے میدان کا اقرار فائدہ پہنچائے۔ لیکن امام ابن جریر کے نزدیک پہلی تفسیر ہی راحج ہے یعنی مراد اس سے فرشتے ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے اور اس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ آسمان میں کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں اور رب کا کلام ایسا واقع ہوتا ہے جیسے اس زنجیر کی آواز جو پتھر پر بجائی جاتی ہو جب ہیبت کم ہوجاتی ہے۔ تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا ؟ جواب ملتا ہے کہ جو فرمایا حق ہے اور وہ اعلی و کبیر ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جو جنات فرشتوں کی باتیں سننے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں اور جو تہ بہ تہ ایک دوسروں کے اوپر ہیں وہ کوئی کلمہ سن لیتے ہیں اوپر والا نیچے والے کو وہ اپنے سے نیچے والے کو سنا دیتا ہے اور وہ کاہنوں کے کانوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ان کے پیچھے فوراً ان کے جلانے کو آگ کا شعلہ لپکتا ہے لیکن کبھی کبھی تو وہ اس کے آنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہنچا دتا ہے اور کبھی پہنچانے سے پہلے ہی جلا دیا جاتا ہے۔ کاہن اس ایک کلمے کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ دیکھو یہ بات اس کے کہنے کے مطابق ہی ہوئی مسند میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ صحابہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور زبردستی روشنی ہوگئی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ جاہلیت میں تمہارا خیال ان ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت کیا تھا ؟ انہوں نے کہا ہم اس موقعہ پر سمجھتے تھے کہ یا تو کوئی بہت بڑا آدمی پیدا ہوا یا مرا۔ زہری سے سوال ہوا کہ کیا جاہلیت کے زمانے میں بھی ستارے جھڑتے تھے ؟ کہا ہاں لیکن کم۔ آپ کی بعثت کے زمانے سے ان میں بہت زیادتی ہوگئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سنو انہیں کسی کی موت وحیات سے کوئی واسطہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی امر کا آسمانوں میں فیصلہ کرتا ہے تو حاملان عرش اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر ساتویں آسمان والے پھر چھٹے آسمان والے یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے۔ پھر عرش کے آس پاس کے فرشتے عرش کے اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ وہ انہیں بتاتے ہیں پھر ہر نیچے والا اوپر والے سے دریافت کرتا ہے اور وہ اسے بتاتا ہے یہاں تک کہ آسمان اول والوں کو خبر پہنچتی ہے۔ کبھی اچک لے جانے والے جنات اسے سن لیتے ہیں تو ان پر یہ ستارے جھڑتے ہیں تاہم جو بات اللہ کو پہچانی منظور ہوتی ہے اسے وہ لے اڑتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت کچھ باطل اور جھوٹ ملا کر لوگوں میں شہرت دیتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی امر کی وحی کرتا ہے تو آسمان مارے خوف کے کپکپا اٹھتے ہیں اور فرشتے ہیبت زدہ ہو کر سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سر اٹھاتے ہیں اور اللہ کا فرمان سنتے ہیں پھر ان کی زبانی اور فرشتے سنتے ہیں اور وہ کہتے جاتے ہیں کہ اللہ نے حق فرمایا وہ بلندی اور بڑائی والا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا امین فرشتہ جس کی طرف ہو اسے پہنچا دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ اس وحی کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبیوں کے نہ ہونے کے زمانے میں بندہ رہ کر پھر ابتداء ختم المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتدائی وحی کے بھی اس آیت کے تحت میں داخل ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن آیت اس کو اور سب کو شامل ہے۔