Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ اَٮِٕنَّا لَتٰرِكُوْۤا اٰلِهَـتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْـنُوْنٍ ۗ

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے
أَئِنَّا
کیا بیشک ہم
لَتَارِكُوٓا۟
البتہ چھوڑنے والے ہیں
ءَالِهَتِنَا
اپنے معبودوں کو
لِشَاعِرٍ
کے لئے شاعر
مَّجْنُونٍۭ
مجنوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کہتے تھے کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑدیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے

احمد علی Ahmed Ali

اور وہ کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے چھوڑ دیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں (١)۔

٣٦۔١ یعنی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑیں؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، دانائی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کو اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کہتے تھے کہ آیا ایک دیوانے شاعر کی خاطر ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک مجنون شاعر کی خاطر اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں،