اَللّٰهُ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُوْنَۖ
تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:
اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ
English Sahih:
It is Allah who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat.
ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi
اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ
احمد رضا خان Ahmed Raza Khan
اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ،
احمد علی Ahmed Ali
الله ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے تاکہ تم ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
أحسن البيان Ahsanul Bayan
اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے (۱) جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو۔ (۲)
٧٩۔١ اللہ تعالٰی اپنی ان گنت نعمتوں میں سے بعض نعمتوں کا تذکرہ فرما رہا ہے چوپائے سے مراد اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ہے یہ نر مادہ مل کر آٹھ ہیں جیسا کہ سورہ انعام میں ہے
٧٩۔۲ یہ سواری کے کام بھی آتے ہیں، ان کا دودھ بھی پیا جاتا ہے (جیسے بکری، گائے اور اونٹنی کا دودھ) ان کا گوشت انسان کی مرغوب ترین غذا ہے اور بار برداری کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔
جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry
خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi
اللہ وه ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو
محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi
اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کا (گوشت) کھاؤ۔
علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اللہ ہی وہ ہے جس نے چوپایوں کو تمہارے لئے خلق کیا ہے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض کو کھانے میں استعمال کرتے ہو
طاہر القادری Tahir ul Qadri
اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے بنائے تاکہ تم اُن میں سے بعض پر سواری کرو اور اِن میں سے بعض کو تم کھاتے ہو،
تفسير ابن كثير Ibn Kathir
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔
انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔