Skip to main content

مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ

مَّا
نہیں
يَلْفِظُ
بولتا
مِن
کوئی
قَوْلٍ
بات
إِلَّا
مگر
لَدَيْهِ
اس کے پاس ہے
رَقِيبٌ
ایک محافظ۔ نگران
عَتِيدٌ
تیار۔حاضر۔ چوکنا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو

احمد علی Ahmed Ali

وہ منہ سے کوئی بات نہیں نکالتا مگراس کے پاس ایک ہوشیار محافظ ہوتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے (١)۔

١٨۔١ رَقِیْب محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا عَتِیْد حاضر اور تیار۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہوتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا ہے مگر یہ کہ ایک نگہبان اس کے پاس موجود رہتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے،