Skip to main content

وَ جَاۤءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَـقِّۗ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ

وَجَآءَتْ
اور آگئی
سَكْرَةُ
بےہوشی
ٱلْمَوْتِ
موت کی
بِٱلْحَقِّۖ
حق لیکر
ذَٰلِكَ
یہ وہی چیز تھی
مَا
جو
كُنتَ
تھا
مِنْهُ
تو اس سے
تَحِيدُ
تو بدکتا۔ تو بھاگتا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،

احمد علی Ahmed Ali

اور موت کی بے ہوشی تو ضرور آ کر رہے گی یہی ہے وہ جس سے تو گریز کرتا تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور موت کی بےہوشی حق لے کر پہنچی یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا (١)

١٩۔١ تَحِیْدُ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ یہی وہ چیز ہے جس سے تو گریز کرتا رہتا تھا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور موت کی بیہوشی یقینا طاری ہوگی کہ یہی وہ بات ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا،