Skip to main content

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِۚ

رَبُّ
رب ہے
ٱلْمَشْرِقَيْنِ
دو مشرقوں کا
وَرَبُّ
اور رب ہے
ٱلْمَغْرِبَيْنِ
دو مغربوں کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب

احمد علی Ahmed Ali

وہ دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا (١)

١٧۔١ ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق اسی طرح مغرب ہے۔ اس لئے دونوں کو دوگنا ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لئے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک (ہے)

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه رب ہے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہی دونوں مشرقوں کا پروردگار ہے اور وہی دونوں مغربوں کا مالک و پروردگار ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ چاند اور سورج دونوں کے مشرق اور مغرب کا مالک ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(وہی) دونوں مشرقوں کا مالک ہے اور (وہی) دونوں مغربوں کا مالک ہے،