Skip to main content

اَنْ لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِيْنٌۙ

أَن
کہ
لَّا
نہیں
يَدْخُلَنَّهَا
داخل ہوگا اس پر
ٱلْيَوْمَ
آج
عَلَيْكُم
تم پر
مِّسْكِينٌ
کوئی مسکین

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،

احمد علی Ahmed Ali

کہ تمہارے باغ میں آج کوئی محتاج نہ آنے پائے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے (١)

٢٤۔١ یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آکر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہ خبردار! آج تمہارے پاس اس باغ میں کوئی مسکین نہ آنے پا ئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کہ خبردار آج باغ میں کوئی مسکین داخل نہ ہونے پائے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کہ آج اس باغ میں تمہارے پاس ہرگز کوئی محتاج نہ آنے پائے،