Skip to main content

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِۙ

وَلَوْ
اور اگر
تَقَوَّلَ
بات بنا لیتا۔ بات گھڑ لیتا
عَلَيْنَا
ہم پر
بَعْضَ
بعض
ٱلْأَقَاوِيلِ
باتیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر وہ کوئی بناوٹی بات ہمارے ذمہ لگاتا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا (١)

٤٤۔١ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اگر وہ (نبی(ص)) اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر وہ ہم پر کوئی (ایک) بات بھی گھڑ کر کہہ دیتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ہدایت اور شفا قرآن حکیم
یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کردیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آسکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عنایت فرما رکھی ہیں۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے، جیسے اور جگہ ہے کہہ دو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بےایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہوگی، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہوگا، جیسے اور جگہ ہے، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جگہ ہے ( وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀ ) 34 ۔ سبأ ;54) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے، پھر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو۔ اللہ کے فضل سے سورة الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی۔