Skip to main content

قَالُوْاۤ اَرْجِهْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَاۤٮِٕنِ حٰشِرِیْنَ ۙ

قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
أَرْجِهْ
اس کو ڈھیل دو ۔ انتظار میں رکھو
وَأَخَاهُ
اور اس کے بھائی کو بھی
وَأَرْسِلْ
اور بھیج دو
فِى
میں
ٱلْمَدَآئِنِ
شہروں
حَٰشِرِينَ
ہر کارے۔ اکٹھے کرنے والے۔ جمع کرنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بولے انہیں اور ان کے بھائی کو ٹھہرا اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے بھیج دے،

احمد علی Ahmed Ali

انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دے اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انہوں نے کہا کہ آپ ان کو ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک رکھیے۔ اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

لوگوں نے کہا کہ ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیجئے اور مختلف شہروں میں جمع کرنے والوں کو بھیجئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

انہوں نے کہا: (ابھی) اس کے اور اس کے بھائی (کے معاملہ) کو مؤخر کر دو اور (مختلف) شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے افراد بھیج دو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

درباریوں کا مشورہ
درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہر کارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔ تو جب تمام استاد فن جادوگر آجائیں ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادو گروں کی کیا کمی ہے ؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا ہم تجھ سے مقابلے کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جگہ مقرر ہوجائے پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا اجھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانجہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہوگیا۔