اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تو بس فتنہ ہی ہیں اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس اجرِ عظیم ہے،
English Sahih:
And know that your properties and your children are but a trial and that Allah has with Him a great reward.
1 Abul A'ala Maududi
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے
3 Ahmed Ali
اور جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور بے شک الله کہ ہاں بڑا اجر ہے
4 Ahsanul Bayan
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے (١) اور اس بات کو جان رکھو کہ اللہ تعالٰی کے پاس بڑا بھاری اجر ہے۔
٢٨۔١ مال اور اولاد کی محبت ہی عام طور پر انسان کو خیانت پر اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے گریز پر مجبور کرتی ہے اس لئے ان کو فتنہ (آزمائش) قرار دیا گیا ہے، یعنی اس کے ذریعے سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ ان کی محبت میں امانت اور اطاعت کے تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں؟ اگر پورے کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہے۔ بصورت دیگر ناکام۔ اس صورت میں یہی مال اور اولاد اس کے لئے عذاب الٰہی کا باعث بن جائیں گے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے
6 Muhammad Junagarhi
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور جان لو۔ کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد (تمہارے لئے) ایک آزمائش ہیں اور یہ بھی کہ اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے
9 Tafsir Jalalayn
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔ وَاعلمو انما اموالکم واولا دکم فتنة، انسان کے اخلاص میں جو چیز عام طور پر خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے اسی لئے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد جس کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو دواصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لئے سامان آزمائش ہے جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں امتحان کا ایک پر چہ ہے اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پر چہ ہے، یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لئے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق و حدود کا لحاظ کرتے ہو ؟ شان نزول : مذکورہ آیت کا مضمون عام ہے سب مسلمانوں کو شامل ہے، مگر اس کے نزول کا واقعہ اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ابو لبابہ (رض) ابن منذر کا قصہ ہے جو غزوہ بنی قریظہ میں پیش آیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہو کر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ اشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ (رض) تمہارے بارے میں جو فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ، بنو قریظہ نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ کے بجائے ابو لبابہ کو یہ کام سپرد کیا جائے، کیونکہ ابولبابہ کے اہل و عیال اور جائداد بنی قریظہ میں تھی بنو قریظہ کو ان سے یہ توقع تھی کہ وہ ان کے بارے میں رعایت کریں گے، آپ نے ان کی درخواست پر ابو لبابہ کو بھیج دیا، بنی قریظہ کے مردوزن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر قلعہ سے اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں کچھ نرمی فرمائیں گے، ابولبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے، کچھ تو ان لوگوں کی گریہ وزاری کی وجہ سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارةً بتلادیا کہ ذبح کئے جاؤ گے گویا اس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راز فاش کردیا۔ حضرت ابولبابہ (رض) کا مسجد میں خود کو مسجد کے ستون سے باندھنا : مال اور اولا کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے مگر فوراً ہی تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت کی، جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ خود کو باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی میں اسی طرح بندھا رہوں گا، چاہے اس حالت میں موت ہی آجائے چناچہ سات روز تک نماز اور حاجت ضروریہ کے علاوہ ستون سے بندھے رہے، کھانا پینا بھی ترک کردیا یہاں تک کہ غشی طاری ہوجاتی تھی، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اول جب اس کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اول ہی میرے پاس آجاتے تو میں اس کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جبکہ وہ یہ کام کر گذرے تو اب قبولیت توبہ نازل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا، چناچہ سات روز کے بعد آخر شب میں آپ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، بعض حضرات نے ان کو خوشخبری سنا کر کھولنا چاہا مگر ابو لبابہ (رض) نے کہا جب تک خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے دست مبارک سے نہ کھولیں گے میں کھلنا پسند نہ کروں گا چناچہ آپ جب صبح کی نماز کے وقت مسجد میں تشریف لائے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا آیت مذکورہ میں جو خیانت کرنے اور مال واولاد کی محبت سے مغلوب ہونے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے اس کا اصل سبب یہ واقعہ ہے۔ (واللہ اعلم) (معارف)
10 Tafsir as-Saadi
چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لئے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں۔ ﴿ وَأَنَّ اللَّـهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾ ” اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔“ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہوجانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur yeh baat samajh lo kay tumharay maal aur tumhari aulad aik aazmaesh hain , aur yeh kay azeem inaam Allah hi kay paas hai .