یوسف آية ۶۹
وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْۤ اَنَاۡ اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَٮِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
طاہر القادری:
اور جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اسے آہستہ سے) کہا: بیشک میں ہی تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس تو غمزدہ نہ ہو ان کاموں پر جو یہ کرتے رہے ہیں،
English Sahih:
And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]."
1 Abul A'ala Maududi
یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"
2 Ahmed Raza Khan
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا
3 Ahmed Ali
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا کہ بے شک میں تیرا بھائی ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس پر غم نہ کر
4 Ahsanul Bayan
یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر (١)۔
٦٩۔١ بعض مفسرین کہتے ہیں دو دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھرایا گیا، یوں بنیامین جو اکیلے رہ گئے تو یوسف علیہ السلام نے انہیں تنہا الگ ایک کمرے میں رکھا اور پھر خلوت میں ان سے باتیں کیں اور انہیں پچھلی باتیں بتلا کر کہا کہ ان بھائیوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، اس پر رنج نہ کر اور بعض کہتے ہیں کہ بنیامین کو روکنے کے لئے جو حیلہ اختیار کرنا تھا، اس سے بھی انہیں آگاہ کر دیا تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ (ابن کثیر)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
6 Muhammad Junagarhi
یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں، پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر
7 Muhammad Hussain Najafi
اور جب یہ لوگ یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اور آہستگی سے) کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں بس تو اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ سلوک کرتے رہے ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور جب وہ لوگ یوسف کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس پناہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی «یوسف,, ہوں لہذا جو برتاؤ یہ لوگ کرتے رہے ہیں اب اس کی طرف سے رنج نہ کرنا
9 Tafsir Jalalayn
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔
آیت نمبر ٦٩ تا ٧٩
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے والے نے ان کے یوسف کی مجلس سے جدا ہونے کے بعد آواز دی، اے قافلے والو تم لوگ چور ہو، انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ جواب دیا شاہی پیمانہ گم ہے، اور جو شخص لاکر دیگا اس کو ایک بار شتر غلہ انعام ملے گا اور اس بار شتر کا میں ضامن ہوں، تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس قسم میں تعجب کے معنی ہیں۔ تم خوب جانتے ہو کہ ہم ملک میں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں، یعنی ہم نے ہرگز چوری نہیں کی، اعلان کرنے والے اور اس کے ساتھیوں نے کہا چور کی (تمہارے نزدیک) کیا سزا ہے اگر تم اپنی بات ” ماکنا سارقین “ میں جھوٹے نکلے اور چور تمہارے اندر ہی سے نکلا، انہوں نے کہا اس کی جزاء خود وہ ہے جس کے سامان میں وہ پیالہ نکلے (یعنی) اس کو غلام بنا لیا جائے (جزاؤہ) مبتداء ہے من وجد الخ اس کی خبر ہے، پھر اس کو اپنے قول فھو جزاؤہٗ سے مؤکد کیا، یعنی وہی چور اس مال مسروق کی جزاء ہے نہ کہ دوسرا اور آل یعقوب کا یہی دستور تھا، ہم تو ایسے ظالموں کو چوری کی ایسی ہی سزا دیتے ہیں، چناچہ ان کو یوسف کے پاس ان کے سامان کی تلاشی کیلئے لایا گیا، چناچہ اپنے حقیقی بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے یوسف (علیہ السلام) نے دوسروں کے سامان کی تلاشی شروع کی تاکہ تہمت کا شک نہ ہو پھر اس پیالے کو اپنے (حقیقی) بھائی کے سامان سے برآمد کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے یوسف کیلئے ایسی ہی تدبیر کی یعنی اپنے بھائی کو روکنے کیلئے (یوسف کو) ایسی تدبیر سکھائی، یوسف کیلئے ملک مصر کے قانون کی رو سے یہ ممکن نہ تھا کہ چوری کے بدلے میں اپنے بھائی کو غلام بنا لے اسلئے کہ چور کی سزا ان کے نزدیک زدوکوب کرنا اور مال مسروق کی دوگنی مقدار تاوان ڈالنا تھا نہ کہ غلام بنانا، مگر یہ کہ اللہ ہی یوسف کے والد کے قانون کے مطابق اس کو پکڑ کر رکھنا چاہے، یعنی یوسف اپنے بھائی کو روکنے پر محض اللہ کی مشیت ہی سے قادر ہوئے یوسف کو اپنے بھائیوں سے سوال کا الہام کے ذریعہ اور ان کے اپنے قانون کے مطابق جواب کے ذریعہ، ہم جس کے چاہیں علم میں درجات بلند کردیں جیسا کہ یوسف کے (درجات من) میں اضافت اور تنوین (دونوں درست ہیں) مخلوق میں سے ہر ذی علم پر دوسرا ذی علم فوقیت رکھنے والا موجود ہے یعنی ہر ذی علم کے اوپر عالم موجود ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے۔
قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل، بھائیوں نے کہا اگر یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات نہیں اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے (یعنی) اس نے اپنے نانا کا سونے کا بت چرا کر توڑ دیا تھا تاکہ وہ اس کی بندگی نہ کرے، یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل ہی میں رکھا (یعنی اس بات کو پی گئے) ان کے سامنے اس کو ظاہر نہ کیا اور (ھا) ضمیر اس کلمہ کی طرف راجح ہے جو ان کے قول سے مفہوم ہے (بس زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ تم تو یوسف اور اس کے بھائی سے بدتر ہو تمہارے اپنے بھائی کو اپنے باپ سے چرانے کی وجہ سے اور اس پر ظلم کرنے کی وجہ سے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو اللہ اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے بھائیوں نے کہا اے سردار ذی اقتدار اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ہماری بہ نسبت اس سے زیادہ پیار کرتا ہے اور اپنے ہلاک ہونے والے بیٹے کے بجائے اسی سے دل بہلاتا ہے، اور اسکی جدائی اس کو غم زدہ کر دے گی، لہٰذا اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو غلام بنالیجئے، ہم برتاؤ میں آپ کو بڑا ہی نیک نفس سمجھتے ہیں، یوسف (علیہ السلام) نے کہا (ایسی ناانصافی سے) اللہ بچائے (معاذ اللہ) مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا فعل (نعوذ) حذف کردیا گیا ہے اور مفعول کی جانب اضافت کردی گئی ہے (ای نعوذ باللہ) یعنی اللہ اس بات سے بچائے کہ ہم اس کے علاوہ کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہو کسی دوسرے کو پکڑ کر رکھ لیں (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے) جھوٹ سے بچنے کیلئے من سرق کا لفظ استعمال نہیں کیا، اگر ہم نے کسی دوسرے کو پکڑ کر رکھ لیا تو اس صورت میں ہم بڑے ناانصاف کہلائیں گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : توا طأمعہ، تواطأ، ای توافق دونوں نے اتفاق کرلیا۔
قولہ : السقایۃ، پانی پلانے کا برتن پانی پلانے کی جگہ، پانی پلانا، یہاں پانی کا پیالہ مراد ہے، بعد میں اس پیالہ کو کیل کے طور پر
استعمال کیا جانے لگا، صاع اس میں ایک لغت صواع بھی ہے۔ قولہ : لئلا یتھم، تاکہ سازش کی تمہت نہ لگے۔
قولہ : علمناہ الاحتیال، یہ کدنا لیوسف کی تفسیر ہے اس تفسیر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف کید کی نسبت کی نفی مقصود ہے، کدنا کے معنی ہیں علمنا الکید، ہم نے یوسف کو حیلہ سکھایا۔
قولہ : بحکم ابیہ، یعنی یوسف کے والد یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق انکی شریعت میں چوری کی سزا غلام بنا لینا تھی
قولہ : بالھامہ سوال اخوتہ وجوابھم بسنتھم، مصری قانون کی رو سے بنیامین کو غلام بنا کر نہیں روک سکتے تھے، اسلئے کہ مصری قانون میں چوری کی سزا زدو کو ب کرنا اور مال مسروقہ کی دوگنی مقدار تاوان وصول کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بذریعہ الہام یہ بات ڈالی کہ خود ان ہی سے سوال کرو کہ چوری کی سزا کیا ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے قانون کے مطابق جواب دیں کنعانی قانون میں چوری کی سزا استر قاق (غلام بنانا تھی) اس طرح برادران یوسف نے خود ہی بنیامین کی سزا یعنی غلام بنا لینا تجویز کردیا۔
قولہ : من المخلوقین بعض حضرات نے جن میں فلاسفہ اور معتزلہ بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” فوق کل ذی علم علیم “ سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم بالذات ہے نہ کہ عالم بالصفات اسلئے کہ اگر اللہ تعالیٰ عالم بالصفت ہو تو ہر ذی علم کے اوپر اعلم ہے اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ سے بڑھ کر بھی کوئی اعلم ہو حالانکہ یہ باطل ہے۔
جواب : مفسر علام نے من المخلوقین کا اضافہ کرکے اسی سوال کا جواب دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر ذی علم پر فوقیت مخلوق کے اعتبار سے ہے نہ کہ خالق کے اعتبار سے، من المخلوقین کی قید کے بعد پھر حتی ینتھی کی قید کی ضرورت نہیں رہتی۔
قولہ : والضمیر للکلمۃ التی فی الخ اس میں ما اضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کی طرف اشارہ ہے، خازن میں ہے کہ فاسرھا کی ضمیر مفعولی میں تین اقوال ہیں۔ (١) ضمیر بعد والے کلمہ یعنی انتم شر مکانا کی طرف راجع ہے۔ (٢) فقد سرق اخ لہ کی طرف راجع ہے۔
(٣) ضمیر حجۃ کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہوگا کہ یوسف نے اس احتجاج کو ترک کردیا۔
تفسیر و تشریح
فلما دخلوا علی یوسف الخ جب برادران یوسف شہر مصر میں داخل ہوئے، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ وعدہ کے مطابق ان کے حقیقی چھوٹے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آئے ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے انکی کافی آؤ بھگت کی اور شاہی اکرام کے ساتھ انکو ٹھہرانے کا انتظام کیا، دو دو بھائیوں کو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرایا چونکہ برادران یوسف گیارہ تھے دو دو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرنے کے بعد بنیامین تنہا رہ گئے تو ان کو تنہا ایک کمرہ میں ٹھہرایا اس میں مصلحت یہ تھی کہ موقع نکال کر بنیامین سے تنہائی میں باتیں ہو سکیں چناچہ آپس میں تنہائی میں خوب باتیں ہوئی ہوں گے دونوں حقیقی بھائیوں کی ملاقات ایک مدت دراز یعنی بیس اکیس سال بعد ہو رہی ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بتایا ہوگا کہ وہ کن کن حالات سے گذرتے ہوئے اس مرتبہ پر پہنچے ہیں، بنیامین نے سنا ہوگا کہ ان کے سوتیلے بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا کیا بدسلوکیاں کیں ہیں پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تسلی دی ہوگی کہ اب گھبرانے کی بات نہیں ہے مصیبتوں کے دن ختم ہوچکے ہیں اب تم میرے ہی پاس رہو گے، یقیناً یوسف (علیہ السلام) کی یہ دلی خواہش رہی ہوگی کہ کسی طرح اپنے عزیز بھائی بنامین کو اپنے پاس روک لے اور یقیناً اس کیلئے کوئی تدبیر بھی ضرور سوچی ہوگی، مگر انتہائی خواہش کے باوجود یوسف (علیہ السلام) کیلئے ایسا کرنا ممکن نہ تھا اسلئے کہ مصری قانون میں کسی غیر مصری کو بغیر کسی معقول وجہ کے روک لینا سخت منع تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ کسی طرح نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت لوگوں پر یا ان کے بھائیوں پر اصل حقیقت منکشف ہو۔
بنیامین کو روک لینے کی تدبیر : فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ آیات مذکورہ میں اس کا بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی بنامین کو اپنے پاس روکنے کیلئے یہ حیلہ اور تدبیر اختیار کی کہ جب سب بھائیوں کو قاعدہ کے موافق غلہ دیدیا گیا تو ہر بھائی کا غلہ الگ الگ اونٹ پر رکھا گیا۔ بنیامین کیلئے جو غلہ اونٹ پر لادا گیا اس میں ایک برتن چھپا دیا گیا، اس برتن کو قرآن مجید نے ایک جگہ لفظ ” سقایہ “ سے اور دوسری جگہ ” صواع الملک “ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے سقایہ کے معنی ہیں پانی پینے کا برتن اور صواع بھی اسی قسم کا ایک برتن ہوتا ہے اور ناپنے کے برتن کو بھی صواع یا صاع کہتے ہیں ہوسکتا ہے یہ بادشاہ کے پانی پینے کا کوئی مخصوص برتن ہو مگر برکت کے طور پر اسے غلہ ناپنے کے کام میں لیا جانے لگا ہوا لبتہ صواع الملک میں ملک کی جانب نسبت کرنے سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ یہ کوئی قیمتی برتن تھا خواہ سونے کا ہو یا چاندی کا یا کسی اور قیمتی چیز کا، بہر حال وہ برتن بنیامین کے سامان میں چھپا دیا گیا تھا، قیمتی برتن ہونے کے علاوہ وہ ملک مصر سے کوئی اختصاص بھی رکھتا تھا۔
ثم۔۔۔۔ الخ یعنی کچھ دیر کے بعد منادی نے پکارا کہ اے قافلہ والو ! تم چور ہو ندا دینے والا کوئی مطبخ وغیرہ کا ذمہ دار رہا ہوگا اور اس طے شدہ حیلہ کا علم نہ ہوگا اور جب سرکاری ساز و سامان کی جانچ پڑتال کی ہوگی تو وہ مخصوص برتن نہ ملنے کی وجہ سے برادران یوسف پر شبہ ہوا ہوگا اس لیے کہ شاہی محل میں ان کے سوا اور کوئی نہ ٹھہرا تھا جس کی وجہ سے ان پر چوری کا الزام لگایا برادران یوسف کا رندوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے ہم پر خواہ مخواہ کیوں الزام لگاتے ہو، آخر معلوم تو ہو کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے ؟ کارندے کہنے لگے شاہی پیمانہ (پیالہ) گم ہوگیا ہے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ جو شخص اس چوری کا پتہ لگا دے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام دیا جائیگا، اور میں اس بات کا ضامن ہوں، برادران یوسف نے کہا خدا جانتا ہے کہ ہم مصر میں فساد اور شرارت کی غرض سے نہیں آئے اور تم جانتے ہو کہ ہم اس سے پہلے بھی غلہ لینے آچکے ہیں، کارندوں نے کہا اچھا جس کے پاس سے یہ چوری نکلے اس کی سزا کیا ہونی چاہیے انہوں نے جواب دیا کہ وہ خود آپ اپنی سزا ہے یعنی وہ تمہارے حوالہ کردیا جائیگا ہمارے یہاں چوری کی یہی سزا ہے، جب کارندوں نے برادران یوسف کا یہ جواب سنا تو تلاشی لینی شروع کی ابتداء دوسرے بھائیوں سے کی اور جب ان کے سامان میں پیالہ نہ نکلا تو آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی لی تو پیالہ برآمد ہوا اور قافلہ کو واپس لوٹا کر عزیز مصر یوسف کی خدمت میں معاملہ پیش کیا، حضرت یوسف نے معاملہ کی نوعیت کو سنا تو دل میں بیحد مسرور ہوئے اور خدا تعالیٰ کی کارسازی کا شکر ادا کیا اور خاموش رہے اور یہ ظاہر نہ کیا کہ یہ پیالہ میں نے خود رکھا تھا، ادھر بنیامین خاموش رہے چونکہ یہ واقعہ ان کی مرضی کے عین موافق تھا۔
برادران یوسف نے جب دیکھا کہ مسروقہ پیالہ بنیامین کے سامان سے برآمد ہوا ہے تو کہنے لگے اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو کیا تعجب ہے اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب چوری کے واقعہ کی حقیقت : ابن کثیر نے بحوالہ محمد بن اسحٰق، مجاہد سے نقل کیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ولادت کے تو تھوڑے ہی دنوں کے بعد بنیامین کی ولادت ہوئی تھی اور اسی ولادت کے سلسلہ میں ان کی والدہ راحیل کا انتقال ہوگیا تھا اب یہ دونوں بچے بغیر ماں کے رہ گئے جس کی وجہ سے ان کی تربیت ان کی پھوپھی کی گود میں ہوئی اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے یوسف (علیہ السلام) کو کچھ ایسی شان عطا فرمائی تھی کہ جو دیکھتا ان سے بیحد محبت کرنے لگتا تھا پھوپھی کا بھی یہی حال تھا کہ کسی وقت بھی ان کو نظروں سے گا ئب کرنے پر قادر نہیں تھیں، دوسری طرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بھی ایسا ہی حال تھا مگر بہت چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضرورت اس کی تھی ان کو ابھی کسی عورت ہی کی نگرانی میں رکھا جائے، اس لئے پھوپھی کے حوالہ کردیا جب یوسف (علیہ السلام) چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے چاہا کہ یوسف کو اپنے پاس رکھیں جب پھوپھی سے کہا تو انہوں نے عذر کردیا جب زیادہ اصرار کیا تو مجبور ہو کر ان کے والد کے حوالہ کردیا ایک تدبیر ان کو واپس لینے کی یہ کی کہ پھوپھی کے پاس ایک پٹکا تھا جو حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کی طرف سے ان کو ملا تھا اور اس کی بڑی قدروقیمت سمجھی جاتی تھی یہ پٹکا پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) کے کپڑوں کے نیچے کمر پر باندھ دیا۔
یوسف (علیہ السلام) کے جانے کے بعد یہ شہرت کردی کہ میرا پٹکا چوری ہوگیا ہے جب تلاشی لی گئی تو یوسف کے پاس سے برآمد ہوا، شریعت یعقوب (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق اب پھوپھی کو یہ حق ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس غلام بنا کر رکھ سکیں چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پھر پھوپھی کے حوالے کر دئیے گئے اور جبتک پھوپھی زندہ رہیں یوسف (علیہ السلام) ان کے پاس رہے۔
یہ واقعہ تھا جس میں یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا الزام لگا تھا، اس واقعہ کی حقیقت اسی وقت سب لوگوں پر عیاں ہوگئی تھی کہ پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس روکنے کیلئے یہ سازش رچائی تھی جس کو کسی طرح بھی چوری نہیں کہا جاسکتا مگر یوسف کے بھائیوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ چوری کا واقعہ نہیں تھا بددیانتی کی وجہ سے اس کو یوسف کے منہ ہی پر چوری کا واقعہ بنا کر پیش کیا۔ ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے بعض مفسرین نے نانا کے گھر سے سونے کی مورتی چرانے کی بات کہی جیسا کہ صاحب جلالین نے بھی نقل کیا ہے مگر یہ بات کسی مستند روایت سے ثابت نہیں ہے وکان ابوامہ کافراً یعبد الاصنام فامرتہ امہ بان یسرق تلک الاوثان ویکسرھا ففعل۔ (کبیر) جب یوسف نے دیکھا کہ خود ان کے منہ پر جھوٹ بول رہے ہیں تو ضبط سے کام لیا اور غصہ کو پی کر رہ گئے اور دل میں کہا کہ تمہارے لئے نہایت بری جگہ ہے کہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو حالانکہ اللہ اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔
برادران یوسف کا آپس میں مشورہ : برادران یوسف نے جب یہ صورت دیکھی تو آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح بنیامین کو حاصل کیا جائے ؟ جب کوئی صورت باقی ہے کہ خوش آمدانہ عرض معروض کرکے عزیز مصر کو بنیامین کو واپسی کی ترغیب دلائیں، کہنے لگے اے سردار با اقتدار ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اس کو اس سے پہلے بھائی کا بھی غم ہے آپ اس پر رحم کیجئے اور آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجئے آپ بلاشبہ پاک نفس اور بااخلاق شخص ہیں عزیز مصر (یوسف) نے کہا، خدا کی پناہ یہ کیسے ممکن ہے اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
10 Tafsir as-Saadi
جب یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿آوَىٰ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ ﴾ ” تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی“ یوسف علیہ السلام نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو، جس کو لانے کے لئے انہوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا، پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کرلیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کردیا۔ ﴿قَالَ إِنِّي أَنَا أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ ﴾ ” اس نے کہا، میں تیرا بھائی ہوں، پس غمگین مت ہو“ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴾ ” ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں“ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انہوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسف علیہ السلام، بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur jab yeh log yousuf kay paas phonchay to unhon ney apney ( sagay ) bhai ( Bin-Yamin ) ko apney paas khaas jagah di , ( aur unhen ) bataya kay mein tumhara bhai hun , lehaza tum inn baaton per ranjeedah naa hona jo yeh ( doosray bhai ) kertay rahey hain .
12 Tafsir Ibn Kathir
بنیامین جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔