میرا یہ قمیض لے جاؤ، سو اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا ہو جائیں گے، اور (پھر) اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ،
English Sahih:
Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."
1 Abul A'ala Maududi
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"
2 Ahmed Raza Khan
میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ،
3 Ahmed Ali
یہ کرتہ میرا لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دو کہ وہ بینا ہوجائے اور میرے پاس اپنے سب کنبے کو لے آؤ
4 Ahsanul Bayan
میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منہ پر ڈال دو کہ وہ دیکھنے لگیں (١) اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لے آؤ (٢)۔
٩٣۔١ قمیص کے چہرے پر پڑنے سے آنکھوں کی بینائی کا بحال ہونا، ایک اعجاز اور کرامت کے طور پر تھا۔ ٩٣۔٢ یہ یوسف علیہ السلام نے اپنے پورے خاندان کو مصر آنے کی دعوت دی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
6 Muhammad Junagarhi
میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منھ پر ڈال دو کہ وه دیکھنے لگیں، اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لےآؤ
7 Muhammad Hussain Najafi
(بعد ازاں) کہا میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ان کی بینائی پلٹ آئے گی (وہ بینا ہو جائیں گے) اور پھر اپنے سب اہل و عیال کو (یہاں) میرے پاس لے آؤ۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جاؤ میری قمیض لے کر جاؤ اور بابا کے چہرہ پر ڈال دو کہ ان کی بصارت پلٹ آئے گی اور اس مرتبہ اپنے تمام گھر والوں کو ساتھ لے کر آنا
9 Tafsir Jalalayn
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو ۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔
10 Tafsir as-Saadi
یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا : ﴿اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾ ” تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا“ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسف علیہ السلام کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کردیا تھا۔۔۔ جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔۔۔ حضرت یوسف علیہ السلام چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح، ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسف علیہ السلام کو مطلع کیا گیا۔ ﴿وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ ” اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ“ یعنی اپنے بال بچوں، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمہاری معاشی بد حالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔
11 Mufti Taqi Usmani
mera yeh qamees ley jao , aur issay meray walid kay chehray per daal dena , iss say unn ki beenai wapis aajaye gi . aur apney saray ghar walon ko meray paas ley aao .
12 Tafsir Ibn Kathir
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .