Skip to main content

مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِىْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَاۤءٌ ۗ

مُهْطِعِينَ
تیزی سے دوڑنے والے ہوں گے
مُقْنِعِى
اوپر کو سر اٹھانے والے ہوں گے
رُءُوسِهِمْ
اپنے سروں کو
لَا
نہیں
يَرْتَدُّ
لوٹے گی
إِلَيْهِمْ
ان کی طرف
طَرْفُهُمْۖ
ان کی نگاہ
وَأَفْـِٔدَتُهُمْ
اور ان کے دل
هَوَآءٌ
خالی ہوں گے/ اڑتے ہوں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بے تحاشا دوڑے نکلیں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی

احمد علی Ahmed Ali

وہ سرا اٹھائے ہوئے دوڑتے چلے جارہے ہوں گے کہ ا ن کی نظر ان کی طرف ہٹ کرنہیں آوے گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ رہے ہونگے (١) خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہونگے (٢)۔

٤٣۔١ مھطعین۔ تیزی سے دوڑ رہے ہونگے۔ دوسرے مقام پر فرمایا، مھطعین الی الداع۔ القمر بلانے والے کی طرف دوڑیں گے اور حیرت سے ان کے سر اٹھے ہوئے ہونگے۔
٤٣۔٢ جو ہولناکیاں وہ دیکھیں گے اور جو فکر اور خوف اپنے بارے میں انہیں ہوگا، ان کے پیش نظر ان کی آنکھیں ایک لمحہ کے لئے بھی پست نہیں ہونگی اور کثرت خوف سے ان کے دل گرے ہوئے اور خالی ہونگے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے اپنے سر اوپر اٹھاتے ہوئے اس عالم میں کہ ان کی نگاہ خود ان کی طرف نہیں پلٹے گی اور ان کے دل (خوف و دہشت کے سوا ہر خیال سے) خالی ہو رہے ہوں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور پلکیں بھی نہ پلٹتی ہوں گی اور ان کے دل دہشت سے ہوا ہورہے ہوں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ لوگ (میدانِ حشر کی طرف) اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑتے جا رہے ہوں گے اس حال میں کہ ان کی پلکیں بھی نہ جھپکتی ہوں گی اور ان کے دل سکت سے خالی ہو رہے ہوں گے،